Pakistananalysis’s Weblog

March 30, 2016

فرق تو پڑتا ہے

از:۔ خرم اقبال اعوان
اے حقیقتِ منتظر

فرق تو پڑتا ہے

آخر کار مصطفی کمال نے اپنے گروپ کو ایک نام دے کر پارٹی میں تبدیل کر لیا ، مبارک ہو۔ ان کی پارٹی کا نام ہے پاک سرزمین پارٹی یعنی جو ان کے ساتھ ملے گا وہ پاک ہو جائے گا اور وہی پاک سرزمین پر ہو گا باقی سب نہ تو اپنے آپ کو پاک خیال کریں اور نہ ہی وہ پاک سرزمین پر ہیں نہ عوام کا فیصلہ درست ہے اور نہ عوام کے ووٹ سے آئے ہوئے لوگ درست ہیں ۔ مگر ایک بات ہے کہ اس پارٹی میں بھائی بھائی کی رٹ لگی ہوئے ہے اور میرا کوئی قاری مجھے بتائے کہ مصطفی کمال رضا ہارون کو بہت گرمجوشی سے نہ صرف گلے لگاتے ہیں بلکہ کافی دیر تک ان سے چمٹے رہتے ہیں اتنا پیار ان کو کسی اور پر کیوں نہیں آتا آخر کیوں؟ پھر بھلا ہو ہمارے میڈیا کا کہ مصطفی کمال کو اتنا دکھا دیا اور اتنی باتیں کر لیں ان سے کہ ان کے پاس کہنے کو کچھ باقی ہی نہیں بچا کیونکہ جو تقریر انہوں نے دبئی سے آکر کی تھی وہی پارٹی کا نام رکھتے ہوئے کی مگر بہت کم لوگوں کو یہ باتیں معلوم ہونگی کہ 23 مارچ کو کمال ہاوس پر قومی پرچم لہرانے کا وقت آیا تو ان کا پرچم جسے انہوں نے پہلے دن کہا تھا کہ یہ ہماراپارٹی کا نشان ہے خار دار تاروں میں پھنس گیا شاید کوئی ناپاک آگیا ہو ئا مصطفی کمال ابھی تک پاک نہیں ہوئے ۔ پھر کلفٹن مارکی کے باہر ایک نوجوان بہت پھرتیاں دکھا رہا تھا اس نے ٹی شرٹ پہن رکھی تھی سفید رنگ کی جس کے سینے والے حصہ پر پاکستان کا جھنڈا بنا ہوا تھا اور جب وہ نوجوان پلٹا تو اس کی کمر پر سبز رنگ سے ہماری پاک آرمی کا نشان بنا ہوا تھا اور لکھا تھا Support the Pakistan Army میں حیران رہ گیا اور سوچا کہ بھائی جس آرمی کو کیانی صاحب سیاست سے دور کرتے رہ گئے جس کے لئے راحیل شریف ابھی تک کوشاں ہیں جو ضرب عضب میں مصروف ہیں جو سیاست سے میلوں دور ہو چکی ہے بھائی تو اسے کیوں پاک سرزمین پارٹی کے جنم استھان پر لے آیا بھائی ، جہاں کسی کی پیدائش ہوتی ہے وہ جگہ پاک نہیں ہوتی مگر کیا کریں جوش میں ہوش نہیں رہتا اور محبت اندھی ہوتی ہے ۔ چاہوں گا لوگ اس بیچارے کو معاف کر دیں گے کیونکہ غلطی ہوگئی بھول جائیں ۔

میں نے 31 اگست2014 کو لکھا تھا کہ نقصان سب اٹھائیں گے اس کا آغاز 2013 کے نیشنل الیکشن میں ہو اتھا مگر کام ابھی مکمل نہیں ہوا اب جو پارٹیاں سمندر بن چکی ہیں ان کی حالت وہی ہے ۔ کسی کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑ رہا تھا ووٹ بینک متنفر ضرور ہوا تھا منکر نہیں یہی تو ڈاکٹر فاروق ستار نے چند دن پہلے صفائی مہم کے دوران فرمایا کہ سمندر میں سے چند بالٹی پانی نکل جائے تو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ پہلی بات اگر فرق نہیں پڑتا تو یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کا مطلب ہے فرق تو پڑا ہے۔ چاہے کم یا زیادہ فکر تو ہے چاہے ظاہر کی جائے یا نہ کی جائے۔ اب فرق کیسے پڑتا ہے اِس کے لیے آپ کو کچھ لمحات کے لیے تاریخ کے جھروکوں میں لے کر چلتے ہیں۔

ایک فرق کراچی کو ڈالنے کا آغاز 1979 سے شروع کیا گیا تھا۔ اس فرق کی باقاعدہ داغ بیل 1982 میں ایک پارٹی بنا کر ڈالی گئی جس کو بنانے والوں میں عظیم طارق، عشرت العباد، اشتیاق احمد، عامر خان تھے۔ مگر کراچی میں یہ فرق ڈالنے والوں کو ان چاروں پر اعتماد نہ رہا پھر 1984 میں شکاگو امریکہ سے ایک شخص کو درآمد کیا گیا جو وہاں ٹیکسی چلاتا تھا۔ جسے آج تمام ملک قائد تحریک کے نام سے جانتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسے ہی کیوں؟ تو اس کے جواب کے لیے مزید کچھ تاریخ کے اوراق پلٹنے پڑیں گے۔ جب ایک لڑکا الطاف حسین کے نام سے جامعہ کراچی میں داخلہ لیتا ہے جمیعت کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک کرتاہ ے اور جمیعت کے ساتھ رفیق کے طور پر جڑ جاتا ہے۔ اور اس حد تک وابستہ ہوتا ہے کہ سائیکل پر کھالیں تک جمع کرتا ہے۔ یاد رہے اس وقت جامعہ کراچی میں صرف جماعت ِ اسلامی اور پاکستان پیپلز پارٹی کا راج تھا۔

جب وقت جامعہ کراچی میں اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن کا آیا تو اس طالب علم (الطاف حسین) نے اپنے کاغذات جمیعت کی جانب سے جمع کروانے کی کوشش کی، جبکہ جمیعت کا اپنا ایک طریقہ کار ہے کسی بھی طالب علم کو نامزد کرنے کا جس پر الطاف حسین صاحب نے مزاحمت کی تو جمیعت نے ان کو بالکل ہی خارج کر دیا۔ تو الطاف حسین نے آزاد حیثیت سے جامعہ کراچی میں انتخاب لڑا اور نتیجہ وہی ہوا جس کی توقع تھی کہ آج کے قائد تحریک اور اس وقت کے الطاف حسین جمیعت کے مقابلے میں ہار گئے۔ مگر انھوں نے واپس جمیعت کی جانب جانے کے بجائے اپنا ایک الگ چھوٹا گروپ بنا لیا اور مختلف اوقات میں جمیعت کے ساتھ اپنے سینگ پھنسائے رکھے۔ اسی وقت سے الطاف حسین کو اپنی نظر میں رکھا نظر میں رکھنے والوں نے اور جب سب کچھ تیار ہو گیا تو 1984 میں شکاگو سے بلا کر پارٹی کا ہیڈ بنا کر بٹھا دیا گیا۔

یہی سب تو رضا ہارون نے کہا تھا کہ آپ کو دو مرتبہ باہر سے بلا کر بنی بنائی پارٹی پر بٹھا دیا گیا۔ آپ نے کون سا کمال کیا؟ مگر رضا ہارون ایک بات بھول گئے کہ کسی بندے کو بلاشرکت غیرے 1984 سے اب تک اگر قائد تحریک بنا کر بٹھائے رکھا جائے ایک چھوٹے سے فیصلے کے لیے بھی ان کی اجازت درکار ہو تو پھر اس طرح کے شخص کا مطلق العنان بن جانا فطری عمل ہے۔ اس پر رضا ہارون اور مصطفی کمال کا آج کُڑنا درست نہیں کیونکہ اس میں ان کا بھی حصہ ہے۔

یہ سب اُس وقت بھی اسی طرح ہوا جیسے آج مصطفی کمال کو لا کر بٹھا دیا گیا ہے۔ اور ان کے ساتھ لوگ جوڑے جا رہے ہیں۔ اب لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ اور کون کون ہے یہ بات تو وقت ہی بتائے گا اور ثابت بھی کرے گا مگر کچھ احباب یہ بتاتے ہیں کہ ان میں حیدر عباس رضوی، رشید گوڈیل، فیصل سبزواری، روف صدیقی، اظہار الحق، خوش بخت شجاعت وغیرہ ہیں۔ اس میں وقت تو لگے گا اور وقت ہی شاید کچھ نام بدل بھی دے اور نئے نام ڈال بھی دے۔ مگر کام لمبا ہے۔ کیونکہ ساتھیوں کو ساتھ جوڑنا اتنا آسان کام بھی نہیں۔ اب رضا ہارون صاحب کے ساتھ شامل ہونے کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس کہنے کو مشرف صاحب کے ملک سے باہر جانے کی نظر ہو گئی۔ مگر مقتدر حلقوں سے معلوم ہوا کہ مصطفی کمال کی اور انیس ایڈووکیٹ جنھوں نے اُس دن دبئی سے آنا تھا کے درمیان وسیم آفتاب کو لے کر کافی تلخ کلامی ہوئی جس کی وجہ سے انیس ایڈووکیٹ دبئی سے پاکستان ہی نہ آئے، جو کہ بعد میں تقریباً سات دن بعد تشریف لائے۔ پھر لوگ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ حیدر عباس رضوی صاحب کس طرح اس نئے گروپ میں شامل ہوں گے۔ اب اس کا جواب یہ ہے کہ 2009 میں ایک عالم دین مولانا عبد المجید صاحب کو قتل کیا گیا۔ آپ یہ کہیں گے کہ یہ کیا بات ہوئی۔ ان سے حیدر عباس ر ضوی کا کیا تعلق ؟ تو جناب گزارش یہ ہے کہ مصطفی کمال صاحب کے اس گروپ اور ایم کیو ایم وغیرہ کے بارے میں باتوں کا سراغ لگاتے ہوئے کچھ ذرائع سے یہ معلوم ہوا کہ جس دن مولانا عبد المجید صاحب کا قتل ہوا اُس دن 3 مزید عالم دین کو قتل کرنے کا پلان تھا مگر وہ کہتے ہیں کہ مارنے والے سے بچانے والا طاقت ور ہے۔یہ تو ان کی زندگی تھی جن لوگوں کے ذمہ ان کو مارنا تھا اُنھی میں سے کچھ لوگوں نے باقی 3 احباب کو مطلع کر دیا۔ اور اب سب سے خاص بات کہ اس سب پلان کے ماسٹر مائنڈ حیدر عباس رضوی صاحب تھے اور یہ سب باتیں اور ثبوت جس کے پاس ہونی چاہیں اس کے پاس ہیں۔

اسی طرح رشید گوڈیل صاحب ہیں جو کہ اپنے اوپر ہونے والے حملے کے بعد سے منظر عام سے غائب ہیں ان کے بارے میں بھی قوی امکان ہے کہ وہ بھی اسی گروپ میں شامل ہوں گے اور اپنا کردار ادا کریں گے۔ فیصل سبزواری قیادت سے لمبی چھٹی لے کر امریکہ جا چکے ہیں واپسی پر متحد رہتے ہیں یا پاک سر زمین پر اُترتے ہیں یہ فیصلہ وقت کرے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ گروپ کیوں بنا اور یہ کرے گا کیا؟ تو جناب سیدھی سی بات ہے اتنے سالوں تک MQM اور الطاف حسین صاحب بلا شرکتِ غیرے کراچی اور حیدر آباد پر حکومت کر رہے تھے۔ اسی لیے شاید اب وہ دسترس سے باہر ہو گئے تھے یا ہو رہے تھے کیونکہ تمام کراچی کی نیشنل اسمبلی کی ٹوٹل 21 نشستیں ہیں جن میں اکثریت ایم کیو ایم کے پاس ہوتی ہیں۔ تمام کراچی میں ایم کیو ایم کے 32 سیکٹرز ہیں ان میں جہاں بہاریوں کی اکثریت ہے یعنی اورنگی ٹاون وغیرہ وہاں مصطفی کمال بہاریوں کے ناراض ہونے کی وجہ سے مضبوط پوزیشن میںنظر آتے ہیں۔ اسی طرح PID کالونی اور عزیز آباد جہاں سے ایک محطاط انداذے کے مطابق متحدہ کو فائٹر اسکواڈ ملتا ہے یعنی جوشیلے نوجوان جو متحدہ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ یہاں مصطفی کمال کا اثر و رسوخ اچھا ہے۔ اسی طرح لانڈی شاہ فیصل وغیرہ میں بھی مصطفی کمال گروپ متحدہ کو کڑا مقابلہ دے سکتا ہے۔ اسی طرح انیس قائم خانی اور انیس ایڈوکیٹ دونوں افراد کا تنظیم سازی میں وسیع تجربہ ہے اور انیس ایڈووکیٹ تو حیدر آبادسے ممبر نیشنل اسمبلی منتخب ہو چکے ہوے ہیں ، تو یہ دونوں افراد حیدر آباد ، سکھر میں زمین کو پاک کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کچھ (2)کے قریب سیٹیں”پیپلز پارٹی“ کی اور کچھ سیٹیں ”پی ٹی آئی“ اور باقی مصطفی کمال گروپ اگر اوپر بتائے گئے لوگ ان کے ساتھ شامل ہوں تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ گروپ 6سے 8 نیشنل اسمبلی کی سیٹیں جیت لے گا جو کہ متحدہ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا یعنی 21 میں سے 10 یا 11 نیشنل اسمبلی کی نشستیں متحدہ کے علاوہ کچھ اور لوگوں میں بٹ جائیں۔ کیونکہ ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا چولی دامن کا ساتھ بن چکا ہے۔ الطاف حسین پر ہر طرح کے الزام لگے ،ڈاکٹر عمران کے قتل کے ، منی لانڈرنگ کے الزامات ، ابھی تک کچھ بھی نہیں بن پڑا۔ لندن میں اگر کچھ ہو گا تو منی لانڈرنگ میں ہو گا جب کورٹ میں کیس جائے گا۔ مطلب یہ کہ ابھی کام دور ہے۔ بات چلی ہے تو یہ بھی گزارش کرتا چلوں کہ سرفراز مرچنٹ جن کے حوالے سے آج کل کافی شور شرابہ ہے جو وعدہ معاف گواہ کے طور پر سامنے آ رہے ہیں اور آج بہت بے قصور بن کر معصوم بن کر بیان اور ویڈیو بیپر دیتے ہیں یہ صاحب خود چائنہ کٹنگ میں ملوث رہے ہیںاور مصطفی کمال اور حماد صدیقی یہ لوگ بھی چائنہ کٹنگ میں ملوث ہیں۔ نہ جانے ان کے خلاف کوئی فائل کسی ادارے کو کیوں نہیں ملتی۔ نہ جانے ان کا کوئی دست راست کیوں 90 روز کے لیے ریمانڈ پر نہیں جاتا۔ خیر یہ توویسے ہی تذکرہ ہو گیا اس بارے میں پھر کبھی۔ ابھی واپس اپنے موضوع پر آتے ہیں کہ الطاف حسین صاحب پر مقدمات پر سنوائی اور ان پر سزا یا انھیں بری کرنے کے کام میں ابھی وقت درکا ہے۔ اور پھر الطاف حسین صاحب کی صحت بھی کبھی ٹھیک کبھی خراب۔ ان سب باتوں کونظر میں رکھتے ہوئے ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کے حوالے سے کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ وہ بے یار و مددگار ہو جائے گا اور آخر کار یا تو پیپلز پارٹی کے پاس جائے گا یا پھر مسلم لیگ (ن) کے پاس کیونکہ پی ٹی آئی تو اپنی عوامی مقبولیت جو کہ جلسوں میں ہو یا کچھ حد تک ریلیوں میں ہو کو بیلٹ میں منتقل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اور وہ حلقے یہ دیکھ کر کافی پریشان تھے کہ پی ٹی آئی اپنا رنگ جمانے میں ناکام ہو چکی ہے تو پھر اگر ووٹ پی پی پی میں یا مسلم لیگ (ن) میں بٹنا ہے تو کیا فائدہ۔ اس لیے یک دم پلک جھپکتے سب کچھ ہوجاتا ہے۔ اور وہ لوگ جن کے نام کے وارنٹ ہیں جن کے حوالے سے خطوط ائیر پورٹ حکام کو دیے جا چکے ہیں کہ اگر یہ لوگ بیرون ملک آئیں تو انھیں روک کر پولیس کو مطلع کر دیاجائے مگر کیا کیا جائے کہ اگر میں مصطفی کمال کی بات مان لوں جو کہ ماننے میں نہیں آتی کہ انھیں کسی نے پہنچانا نہیں وہ اتنی آسانی سے کیسے آتے ہیں اور بہت اطمینان سے ایئر پورٹ سے باہر آتے ہیں۔ بلکہ ابھی تک بے خوف گھوم رہے ہیں اور مزید یہ کہتے ہیں کہ کراچی کے نوجوانوں کو عام معافی دی جائے جیسے بلوچوں کو دی گئی۔ کوئی بلوچ، کوئی لنگڑا کوئی اور کسی بھی حلیے میں ہو وہ پہچانا بھی جاتا ہے پکڑا بھی جاتا ہے۔ آخر قانون کو اتنا مذاق کیوں بنا دیا گیا ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ قانون سے کھیلا جا رہا ہے۔اِس کا مطلب ہے کہ کوئی اور ہے جس کی وجہ سے مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کے تمام گناہ معاف ہو گئے۔ کیا معاف کرنے والی خدائی طاقتیں ہیں یا غیبی؟ خیر پھر بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔ دکھ اتنے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں ۔ تو جناب ایم کیو ایم کا ووٹ بینک توہے جس کی وجہ سے اِن حضرات کو دبئی سے پاکستان اتاراگیا ہے۔

تو جیسا میں نے 31 اگست 2014 کو لکھا تھا کہ نقصان سب اٹھائیں گے تو جناب متحدہ کے حصے کیے جانے ہیں مطلب اِن کے ووٹ بینک کے۔ پھر آگے بات چلے گی مگر یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ جتنا طاقتور اثر مصطفی کمال کا سمجھا جا رہا تھا وہ ہوا نہیں اور ان کے ساتھ ویسے لوگ آ کر جڑے نہیں جو کہ متحدہ کو کچھ خاص فرق ڈال سکیں۔ بس اگر یہی حال رہا تو صرف ووٹ ٹوٹے گا نتیجہ تقریباً وہی رہے گا جو ہوتا ہے، کچھ رد و بدل کے ساتھ۔ مگر بلا شرکت غیرے میں اتنا فرق بھی بہت ہوتا ہے فاروق ستار بھائی۔ اللہ آپ کو امان میں رکھے اور استقامت دے۔ ویسے متحدہ کی خاموشی مصطفی کمال صاحب کے لئے نشتر بنتی جارہی ہے جو کہ ان کے چہرے پر عیاں ہے۔ کیونکہ اگر متحدہ بولے تو ان کے جواب میں پریس کانفرنس ہو جائے گی کیونکہ بولنے کا میٹیرئیل مل جائے گا نیا آجائے گا مگر خاموشی کا کوئی کتنا جواب دے سکتا ہے۔ آخر کار لوگ خاموشی کے مقابلے میں مسلسل ایک ہی بات بولنے والے کو پاگل کہہ کر اس پر توجہ دینا بند کر دیتے ہیں ۔ میری درخواست ہے کہ متحدہ اسی طرح چپ رہے اور اپنے مخالفین کو پریشان رکھے ۔ مگر قائدِ تحریک لے لیئے میر تقی میر نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔

جی کا جانا ٹھر رہا ہے صبح گیا یا شام گیا

Shehzada Khurram Iqbal Awan

E-mail:   khurramiqbalawan@gmail.com,

http://khurramiqbalawan.blogspot.com/

https://twitter.com/khurramiawan

Advertisements

March 14, 2016

نقصان تو سب اٹھائیں گے

اے حقیقتِ مُنتظر:

از : خرم اقبال اعوان

انقلاب اور آزادی مارچ کو اٹھارہ روز سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے جب قادری صاحب نے وزیراعظم ہاؤس کے باہر پہنچنے کا اعلان کیا تو انقلاب مارچ کے منتقل کرنے کا اعلان کیا تو پھر ساتھ ہی عمران خان صاحب نے بھی آزادی مارچ کے وزیراعظم ہاؤس کے سامنے منتقل ہونے کا اعلان کیا تو ایک گھنٹا سوا گھنٹا انقلاب والے اپنا سامان سمیٹ کر طوزیراعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے لگے خبریں آرہیں تھیں کہ وزیراعظم نے طاقت کا استعمال نہ کلرنے کا کہا ہے ۔ پھر اچانک آنسو گیس کے شیل فائر کئے جانے لگے اور ربڑ کی گولیاں بھی فائر کی جانے لگیں۔ خواجہ آصف ایک چینل پرنمودارہوئے اور انہوں نے کہا کہ وہ ہرطرح کی طاقت کا استعمال کریں گے کسی کو بھی ایسی اجازت نہیں دیں گے۔ لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات آتی جا رہی ہیں کچھ چینل تو چار سے چھ افراد کی ہلاکت کا بھی کہہ رہے ہیں۔ مگر تین سو سے زائد افراد کے زخمی ہو کر ہسپتال میں داخل ہونے کی خبر ہر جانب سے آرہی ہیں ہر نجی چینل یہ تعداد تو بتا رہا ہے بہرحال نقصان تو ہو رہا ہے اور جو بھی نقصان ہے وہ ہے تو پاکستان کا نقصان ۔ اور اس سب میں اسلام آباد پولیس تو نہ ہونے کے برابر ، اس آپریشن میں تمام پولیس پنجاب پولیس کی استعمال ہو رہی ہے۔ شاید پنجاب پولیس کو خفیہ آپریشن کا تجربہ زیادہ ہے۔ جیسے ماڈل ٹاؤن کا سانحہ ہوا بالکل اسی طرح وزیراعظم کو بھی اِسلام آباد آپریشن کی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک ایف آئی آر بھی کاٹ دی گئی ہے جس میں پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے کئی سو افراد کو ذمہ دار اور چند نا معلوم افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کچھ ایسی خبریں آرہی ہیں کہ پولیس نے ہسپتال والوں کو زخمیوں اور شدید زخمیوں میں فرق ختم کرنے کو کہا ہے اور سب کو وہاں سے جلد از جلد فارغ کرنے کا کہا گیا ہے ۔ ڈاکٹروں کو ریکارڈ بنانے سے روکا جارہا ہے آخر یہ سب کیوں؟ اس طرح کے ہتھکنڈے تو اس وقت استعمال کئے جاتے ہیں جب آپ کے اپنے اندر کھوٹ ہو اور آپ اپنے کئے کو چھپانا چاہتے ہوں۔ میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس سب کے خاتمے کے بعد وہ انقلاب ہو یا آزادی مارچ ، حکومت ہو اپوزیشن جماعتیں کون فائدے میں ہیں اور کون نقصان میں؟

میری یہ تحریر اگر کسی سیاسی ورکر کو یا عوام میں کسی بندے کو پسند نہ آئے تو میں قبل از وقت معافی چاہتا ہوں ۔ جناب میں فائدے اور نقصان کی بات اس لئے کررہا ہوں کیونکہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس سے کسی ایک جماعت کا یا بندے کا نقصان یا فائدہ نہیں ہو گا بلکہ سراسر عوام کا نقصا ن ہو گا جمہور کا نقصان ہے۔

سب سے پہلے طاہر القادری صاحب سے درخواست کرونگا کہ برائے مہربانی آپ اس ایف آئی آر کو تسلیم کر لیں کیونکہ آپ کی ڈیمانڈ کے مطابق دفعہ 7 اے ٹی اے جو کہ غلط العام ہو چکی ہے جو حقیقت میں اینٹی ٹیریرزم ایکٹ 1997 ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے نہیں آپ کو اگر ڈیمانڈ کرنا ہے تو یہ کریں کہ تفتیش کرنے والے بدلو وہ لگاؤ جیسے ذوالفقار علی چیمہ صاحب ہیں کیونکہ وہی حشر نہ ہو جو کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے ساتھ ہوا ہے جس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب لاہور، ڈاکٹر عارف مشتاق چوہدری ہیں جو کہ احسن اقبال صاحب کے بہنوئی ہیں، جن کے ہم زلف محی الدین وانی نواز شریف صاحب کے میڈیا ایڈوائزر ہیں۔ خیر اس سب کے بعد اسلام آباد آپریشن میں میڈیا کے ساتھ جو سلوک ہوا میڈیا چینلز کو عبرت کا نشان بنانے کی کوشش کی گئی یہ بھی شاید احسن اقبال صاحب کے ہم زلف کا کارنامہ ہو ۔ احسن اقبال صاحب آپ وژن 2025 تو دے رہے ہیں مگر2014 میں بھی آپ کی پارٹی اور آپ کے رشتہ دار 90 کی دہائی میں رہ رہے ہیں میرا احسن اقبال صاحب کو یہ مشورہ ہے کہ وہ پہلے ان سب کو 2014 میں لے کر آئیں اور 2014کا وژن تیار کریں ، پھر کہیں جا کر2015 کا وژن دیں 2025 تو بہت دور کی بات ہے۔ یہ اس طرح کی حرکتوں سے خود تو 2025 میں نہ جا پائیں گے اور پاکستان کو بھی ترقی سے روک دیں گے۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں ان حالات میں تو کیسی ایف آئی آر کیسی تحقیقات اور کیسی دفعات کیسی 302 کیسی دہشت گردی کی دفعات سب کچھ بے سود۔ قادری صاحب آپ صرف ایف آئی آر کو درست لکھنے کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

دوسرا ایک اہم نقصان جس کی جانب میں توجہ دلانا چاہونگا وہ ہے سیاسی پارٹیوں کا مستقبل۔ اس تمام انقلاب اور لانگ مارچ کے نتیجے میں ایک بات میری عقل اور تخیل کے مطابق طے ہے اور وہ ہے کہ کوئی پارٹی بھی مستقبل میں اکثریت میں رہ جائے یہ تو وہ بھول جائے ۔ یہ بات میں کس بنیاد پر کہہ رہا ہوں وہ ہے 2013 کے الیکشن جس میں کچھ پارٹیوں کو ان کی انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہی نہ مل سکی اور وہ بھی کس وجہ سے طالبان کے حملوں کے پیش نظر ،عوام کے ساتھ تو عقلی دھاندلی، سیاست اور جمہوریت کے پھلنے پھولنے کے آثار تو2013 کے قومی اسمبلی کے انتخابات میں ہی معدوم ہو گئے تھے ہم آج جمہوریت کو بچانے کا رونا رو رہے ہیں معذرت کے ساتھ جب تک یہ عوام ذہنی طور پر ، شعوری طور پر بالغ نہ ہو گی اسے جمہوریت کی سمجھ نہیں آئے گی ،اس وقت تک جمہوریت کی بقا ممکن نہیں آج پاکستان کی عوام جتنی منتشر ہے اتنا ہی ذہنی انتشار کا بھی شکار ہے کیونکہ اس کو یہ ہی سمجھ نہیں آرہا کہ کون صحیح ہے کون غلط ؟ کون اس ملک کیلئے بہتر ہے کون اس ملک کو کیا دے سکتا ہے؟ کون سا سیاسی فیصلہ درست ہے کون سا غلط؟ یہ ایک دوسرا بڑا نقصان ہے جو بحیثیت قوم ہمیں ہوا۔ واپس آتا ہوں 2013 کےانتخابات کی جانب جب ملک کی بڑی پارٹی پیپلز پارٹی اپنی الیکشن مہم ہی نہ چلا سکی سندھ کی حد تک ایک بڑی طاقت ایم کیو ایم کے دفاتر پر حملے ہوئے ، خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسوں میں دھماکے ہوئے وہ بھی الیکشن مہم نہیں چلا سکے ۔ سب سے بڑی بات کہ عوام فرق کیسے کرتے کہ کون ٹھیک ہے اور کون خراب ہے۔ جس کا نتیجہ جب الیکشن کے نتائج آئے تو سب نے دیکھا کہ پیپلز پارٹی جیسی پارٹی ایک صوبائی پارٹی کی حیثیت تک محدود ہو گئی اور ایم کیو ایم کو کراچی جیسے شہر میں اپنی سیٹیں کھونا پڑیں اور عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست بستر مرگ پر جا پہنچی یہ تیسرا نقصان ہوا جو جمہوریت کو پہنچا جو کہ ملکی سیاست کو پہنچا جو ہمارے ناعاقبت اندیش فیصلوں کی وجہ سے ملک کو پہنچا۔

اب میں سیدھا چوتھے مقام پر آنا چاہونگا اور وہ ہے جو ابھی پھر ایک عام پاکستانی سوچ رہا ہے کہ اس تمام ریڈ زون آپریشن میں اور اس مارچ کے نتیجے میں قادری صاحب اور عمران خان صاحب کامیاب قرار پا جائیں گے یا نوازشریف۔ شاید ایسا ہی ہو مگر میرا تخیل میری واقعات کی ترتیب مجھے یہ بتا رہی ہے کہ کامیاب تحریک انصاف ، عوامی تحریک اور نوازشریف تینوں ہی نہیں ہونگے۔ اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں اور وہ یہ ہیں کہ عمران خان صاحب اس آزادی مارچ میں بہت ساری خامیوں کے ساتھ آئے ہیں اور وہ خامیاں صرف کرکٹ کی گراؤنڈ میں خوبیاں ہو سکتیں ہیں مگر سیاست میں جہاں ملک و قوم اور اس کی عزت سب آپ کے فیصلے پر ٹکی ہوتی ہے وہاں ایسی سوچ نہیں چل سکتی، یعنی خان صاحب ایک غیر سیاسی دماغ والے ایک ضدی انسان ہیں جو اپنی ذات سے آگے کا نہ سوچنے والے ثابت ہوئے ہیں اور یہ تینوں خامیاں ہیں جس کی وجہ سے آپ سیاست کے بازار میں ایک کامیاب کاروباری ثابت نہیں ہوتے۔ کیونکہ سیاست کچھ لو اور کچھ دو کا نام ہے سیاست کم از کم اپنی پارٹی کو ایک فیصلے پر متفق کرنے کا نام ہے چاہے وہ فیصلہ آپ کی مرضی کا ہو یا کسی اورکی مرضی کا جو آپ کو پسند ہو۔

کیونکہ تحریک انصاف میں سے اکثر یہ شکایت آتی ہے کہ خان صاحب کسی کی بات کو اہمیت نہیں دیتے اپنی کرتے ہیں اپنی ضد پر اٹک جاتے ہیں۔ ایسے شخص پر اعتبار کوئی بھی نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کوئی سرمایہ کار جن کے سرمایہ سے پارٹیاں اپنی روزمرہ سرگرمیاں اپنے انتخابات وغیرہ انجام دے پاتی ہیں اور نہ ہی آپ کے ملک کی وہ مقتدر قوتیں اور طاقتیں جو کہ ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہاں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ نہ تو سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کوئی برُی اور غلط بات ہے اور نہ ہی مقتدر طاقتوںکا سیاست میں کردار غلط ہے یہ ہر جگہ ہر ملک میں ہوتا ہے چاہے وہ برطانیہ ہو ، امریکہ ہو یا پڑوسی ملک انڈیا ہو میرے اعتبار سے خان صاحب اِن نقات کھوتے جا رہے ہیں ۔

قادری صاحب کا کیا کیجئے ان کی باتیں تمام ٹھیک مگر وہ اس نظام کو لپیٹنا چاہتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ ان کے اسٹیکس نہیں ہیں جو انہیں کوئی فکر ہو وہ صرف ایک رائج الوقت پیری مریدی نظام چلا رہے ہیں وہ اس نظام سے باہر نکلنا برداشت نہیں کر سکتے ۔ میں ہر بار کہہ چکا ہوں کہ ان کا اس نظام کے خاتمے یا اس کھیل کے خاتمے کے بعد کوئی کردار نہیں اور اگر ہو گا بھی تو وہ کچھ علاقوں میں کسی اور کی سپورٹ اور اس کو جتوانے کی شکل میںہو گا اس سے زیادہ میں اِن کا کردار نہیں دیکھتا۔یہ ہے چوتھا نقصان جو عوام کا ہوا پاکستان کا ہوا ہے۔

اب چلتے ہیں حکومت پاکستان کی جانب ان کی تو کیا کہیں ماشااللہ انہوں نے غلطیوں میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے پہلے ہر مسئلے کو چھوٹاسمجھتے ہیں اسے حل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور پھرجب مسئلہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے تو اسے حل کرنے کیلئے طریقہ کار کا انتخاب صرف ایک ہے اور وہ ہے سرکوبی کی سیاست ، دوسرے کو ذلیل کرنے کی سیاست، خون بہانہ اور اس پر شادیانے بجانے کی سیاست ، پھر کسی سوال کا درست جواب نہ دینا، کوئی معاملہ طے کرنا ہو تو اس کے عمل میں صرف دلچسبی دکھانا اس کے حل سے سروکار نہ رکھنا یا حل کے ہر طریقے کو پس پشت ڈال دینا ۔سترہ روز سے آئے ہوئے کچھ لوگ جو پر امن ہوں ان سے کوئی بات نہ طے کر پانا ،پھر جب مظاہرین ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کا ارادہ کریں تو اسے ہونے دینا اور پھر جب وزیراعظم ہاؤس کے سامنے منتقل ہونے کا کہیں توظلم کی انتہا کرنا عورتوں بچوں پر تینوں اطراف سے شیلنگ کرنا آنسو گیس پھینکنا پر امن ہجوم پر پولیس کا دھاوا بولنا ۔ خدا کا خوف کریں یہ سب ملک کے دارلحکومت میں کرنا سترہ دن تک ایک پر امن عوام جنہوں نے بین الاقوامی طور پر یہ ثابت کیا کہ وہ پر امن ہیں ان پر ریاست کو خونخوار بھیڑیوں کی طرح چھوڑنے کا فیصلہ کرنا، لوگوں کے قتل کو اپنا استحقاق خیال کرنا۔ دارلخلافے میں جنگ کا منظر بنانا، ریاست کے تحکم کو برباد کرنا اور ریاست کی اساس کو گرا دینا یہ ہے پانچویں غلطی۔

جب آپ کے ساتھ پورا پارلیمان کھڑا ہے جب جمہوریت کیلئے تمام سیاسی جماعتیں ایک ہیں ان کو چھوڑ کر ان کو بات حل کرنے کے اختیارات دئیے بغیر خود ہی اپنی ذاتی حیثیت میں فوج کے ادارے کے سربراہ سے معاملے میں پڑنے کا کہنا اور پھر قومی اسمبلی کے فلور پر تمام دنیا کے سامنے اس بات پر سے پھر جانا کہ میں نے اِس ادارے کو ملوث نہیں کیا ۔ یہ منافقت ، اپنے ساتھ تو ہے مگر اس سے بھی زیادہ جمہوریت کے ساتھ دھوکہ ہے اپنے مینڈیٹ کے ساتھ دھوکہ ہے، جس کی بنیاد پر آپ اپنے آپ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیراعظم کہتے ہیں ۔ یہ دھوکہ ہے اس ملک کے جمہور کے ساتھ کیونکہ جمہوربنا جمہوریت کا تصور نہیں ۔ آپ کے بغیر آئین بھی رہے گا جمہوریت بھی رہے گی کیونکہ اس ملک کا جمہور آپ نے اپنی اس حرکت کی وجہ سے کھو دیا ۔ آپ کے ہی خیال میں صرف آپ کا استعفٰی مانگنا غیر آئینی ہے جبکہ آئین نہ تو استعفٰی مانگنے کو غیر آئینی کہتا ہے اور نہ ہی آپ کے استعفٰی دینے کو غیر آئینی کہتا ہے۔

اب میرا تخیل یہ کہتا ہے کہ اگر ایسا رہا تو وقت آگیا ہے کہ یہ سب اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد لئے بیٹھے ہوئے لوگوں کیلئے کوئی تیسری طاقت آئے اور ان سب کو (کٹ ٹو سائز )کر کے ان کی حیثیت میں لا کر کنٹرول کر لے ۔ تاکہ ریاست کی جو ساکھ جو اساس بچ گئی ہے اسے بچایا جا سکے اور اس سے ایک نئی شروعات کر کے ایک ٹھیک حکومت اور تمام اداروں کی بنیاد درست کرے اور پھر اس ملک کی عوام کی عوامی جمہوریت بحال کی جائے۔ اور جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ سکرپٹ کس نے لکھا ہے یہ کب ختم ہو گا تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ قانونِ فطرت ہے کہ سکرپٹ کبھی ختم نہیں ہوتا بس اپنی ہئیت بدلتا ہے۔ ایک فیز سے دورے میں منتقل ہو جاتا ہے مگر ریڈ زون کے سفر کے اختتام پر نقصان ہو گا اورسب کا ہو گا اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ وہ فائدے میں رہے گا اور باقی سب نقصان میں تو وہ غلطی پر ہے۔ باقی اللہ خیر کرے۔

this article is written on 31 August 2014.

August 28, 2014

چڑیا سے باز کا شکار

اے حقیقتِ منتظِر:

از : خُرم اقبال اعوان

چڑیا سے باز کا شکار

اللہ کا لاکھ لاکھ شکرکہ آزادی و انقلاب مارچ خیرو آفیت سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہا اور اپنے پڑاؤ کے مقام پرنہ صرف پہنچا بلکہ ایک نئ منزل کا تعین کرتے ہوے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر جا پہنچا۔ اب کچھ جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہوا کیا تھا، نوبت یہاں تک کیوں آئی اور ہونا کیا چاہیے تھا؟ آگے کیا ہونے کے امکانات ہیں ؟ اور کیا ہونا چاہئے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ابھی تک حزبِ اقتدار اورحزبِ اختلاف والوں کی سیاسی نا فہمیاں کہاں کہاں تھیں اور اُن سے کیا اثرات مرتب ہوے۔

حزب اقتدار سے شروعات کرتے ہیں کہ انہوں نے اس ایشو کو کبھی قابل توجہ ہی نہ سمجھا اور عمران خان اور طاہر القادری کی ہر بات کو باقاعدہ مذاق میں اڑا دیا گیا۔ اور جب طاہر القادری صاحب نے پاکستان آنے کا صرف اعلان کیا اور جیسا رد عمل قادری صاحب کے آنے کا اعلان سن کر حکومت کی جانب سے کیا گیا اُس کا نتیجہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شکل میں سامنے آیا۔ اِس کے بعد جب قادری صاحب اسلام آباد آنے لگے تو حکومت نے اِسے بھی اپنے لئے خطرہ جانا، اور ان کے طیارے کا رخ لاہور کی جانب موڑ دیا گیا جو کہ ایک عام پاکستانی شہری اور مسافر کے حقوق کی سراسر خلاف ورزی تھی، اور پھر گورنر عشرت العباد میدان میں سامنے آئے اور انہوں نے گورنر پنجاب کو ساتھ ملایا اور قادری صاحب کو منا کر ماڈل ٹاؤن کی جانب روانہ کر دیا گیا۔

کیونکہ حکومت نے ایک کمزوری کا اظہار کر دیا کہ وہ اسلام آباد میں آنے کے نام سے ہی خوفزدہ ہو جاتی ہے، اور پھر قادری صاحب کے طیارہ کو موڑ کر اِسے اور تقویت دی گئ۔ پھر بھی حکومت کی کیا کہیں کہ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ اس میں کئے گئے بلند و بانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے وزیر اعلٰی صاحب نے کہا کہ اگر حکومت کو قصور وار ٹھہرایا گیا تو میں اسی وقت استعفی دے دوں گا مگر ہوا کچھ برعکس۔ اسی طرح میاں محمد نواز شریف صاحب سے اس دور اقتدار میں وعدہ خلافی کی بہت سی شکایات ہیں جیسے مشرف کا معاملہ ہوا ، کیانی صاحب کا معاملہ جس میں انہیں جوائنٹ چیف آف آرمی سٹاف بنانا تھا اور ان کے کردار کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے زیادہ اہم بنانا تھا۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن کی راہ میں مذاکرات جیسی رکاوٹ ڈالنا یہ سب باتیں وہ تھیں جو وعدہ خلافی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اپنے ملک میں جس بات کا خیال رکھنا ہے اور وہ ہیں ہماری روایات جو کہ ہماری پہچان ہیں۔ جن میں زبان کا پاس رکھنا بھی ایک اہم امر ہے مگر ان سب باتوں کو پس پشت ڈالا گیا جو کہ میاں نواز شریف کا کبھی خاصہ نہیںتھیں مگر شاید جلاوطنی نے ان میں یہ ایک سیاسی تبدیلی پیدا کی ہے جو کہ منفی ہے۔

اسی طرح اقتدار میں آکر اپنے ہی لوگوں اور اپنی ہی پارٹی پر اعتماد کا نہ ہونا، اختیارات کو اپنے اور اپنے خاندان سے باہر نہ جانے دینا۔ میرا یہ خیال تھا کہ جلاوطنی ان کو سیاسی طور پر بالغ کر دے گی مگر ان کے اطوار نے بتا دیا کہ وہ 80 اور 90 کی دہائی سے ہی باہر نہیں آئے۔ جہاں سیاسی مخالفوں کو ڈرا دھمکا کر، پیسے کا لالچ دے کر منا لیا جاتا تھا اور جو نہیں مانتا تھا وہ جان سے جاتا تھا۔

اس تمام تناظر میں مجھے سابق صدر آصف علی زرداری بار بار یاد آرہے ہیں جنہوں نے سیاست کو اپنے حساب سے ایک نیا رخ دیا اور اس کو مفاہمتی سیاست کا نام دیا۔ زرداری صاحب نے یہ روایت ڈالی کہ اس سے پہلے کہ خطرہ آپ کی طرف آئے وہ خود خطرے سے مل لیتے تھےاور اسے تحلیل کر دیتے تھے۔ چاہے بلوچستان کی جانب سے آواز اٹھے یا پنجاب سے آواز اٹھے، زرداری صاحب ہمہ وقت بات کرنے اور وہاں پہنچنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ طاہر القادری صاحب نے جب ان کے خلاف مارچ کیا تو رحمان ملک نے اس مارچ سے نمٹنے کے لئے سرکوبی کی سیاست کا انتخاب کیا مگر زرداری صاحب نے تحمل اوربرداشت کا مظاہرہ کیااور آنے والوں کے لئے راستہ کشادہ کرتے گئے۔ جس سے وہ مارچ آسانی سے تحلیل ہو گیا پھر زرداری صاحب نے بلا خوف و خطر مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے صدر کے اختیارات واپس کر دئے اور مفاہمتی سیاست کے ذریعے سب کو کار سرکار میں شامل رکھا۔ اختیارات کے بٹنے سے وہ میاں صاحب کی طرح پریشان نہیں ہوئے اور اعتماد کی فضا کو تقویت دینے کی کوشش کی۔

ایک اور چیز جس میں نواز شریف صاحب کو قحط کا سامنا ہے وہ ہیں ان کے مشیر، نواز شریف صاحب کے لئے اپنا ہی خاندان سب کچھ ہے اور ان کو اپنی پارٹی کے باقی لوگوں پر اعتماد نہیں انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے لئے ایک عام ممبر قومی اسمبلی کی وہی حیثیت ہے جو زیادہ تر ممبر قومی اسمبلی کی نظر میں ووٹر کی حیثیت ہے ۔ یعنی اسے بھی صرف اسمبلی میں وزیراعظم اور وزیر اعلٰی کو منتخب کرنے کے لئے رکھا گیا ہے ۔

ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو کس طرح ساتھ لے کر چلنا ہے اس میں بھی ن لیگ ناکام رہی۔ انہوں نے جو چال چلی کہ ایک میڈیا ہاؤس پر فوکس کریں اسے ساتھ لے کر چلیں اور وہ ایک لیڈنگ میڈیا ہاؤس بھی ہو تاکہ باقی سب اس کے پیچھے چلیں مگر افسوس کہ جو ہوا وہ بھی سب نے دیکھا۔ اس بات کا اعتراف اور بر ملا اعتراف ن لیگ کے ایک پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے وزیر نے اسلام آباد میں ملاقات میں افسوس کرتے ہوئے کہا کہ “ہماری میڈیا ہینڈلنگ فیل ہو گئی ہے” ۔ ان وزیر صاحب کا نام نہیں بتاؤں گا کیونکہ ان کا وژن بہت ہے اور وہ بہت قریبی بھی ہیں نواز شریف صاحب ۔ جبکہ اگر آپ پیپلز پارٹی کا دور دیکھیں تو ہر چینل نے قسم کھا رکھی تھی کہ ان کو ، شرمندہ اور معافی کے ساتھ ایک لفظ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ ذلیل کرنا ہے، مگر مجال ہے کہ پیپلز پارٹی کے لوگ اپنی پارٹی اور اس کی پالیسی کے دفاع کے لئے نہ آئیں وہ ہر وقت ہر جگہ دستیاب ہوتے تھے ان کے مقابلے میں ن لیگ والے کافی مرتبہ میڈیا سے دوری اختیار کر چکے ہیں۔ اورخلوت میں یہ باتیں کہہ چکے ہیں کہ اگر ہم پالیسی بنانے میں شامل نہیں تو اس کا دفاع کیوں کریں ۔ یہ وہ ایک سال کی چند بڑی بڑی غلطیاں ہیں جو کہ ن لیگ سے ہوئیں اور آج جو حالات ہیں وہ ان کی وجہ سے ہیں۔

اب چلتے ہیں عمران خان صاحب کی جانب تو ان کا تو میں 14 اگست والے مارچ سے شروع کرتا ہوں ۔ پہلے 14 اگست والے دن میں خود زمان پارک میں تھا ان کے دعوے کے بر خلاف لوگ ان کے ساتھ نہ ہونے کے برابر تھے مجھے تو سڑک پر(نہر کے ساتھ) چند خالی چند بھری ہوئیں بسیں نظر آئیں اور ان میں سب سے زیادہ میڈیا کی گاڑیاں تھیں۔ پھر کچھ لوگ اکٹھے ہوئے اور خان صاحب باہر نکلے یہاں ان کا گراؤنڈ ورک کمزور ہو گیا اور ان کی سب سے بڑی طاقت انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن نے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کام نہ کیا یا اِن سے کچھ کام نہیں لیا گیا۔ دوسری غلطی اور کمی ان کی لیڈر شپ خصوصیات میں نظر آئیں وہ یہ کہ جب گوجرانوالہ میں حملہ ہوا تو خان صاحب کا کنٹینرتو بلٹ پروف تھا وہ تو چند اینٹوں اور روڑوں سے ڈر گئے اور کنٹینر سے اتر کر دوسری گاڑی میں جس قدر ہو سکتا تھا تیز بھاگ کھڑے ہوئے جو کہ ایک لیڈرکے شایان شان نہیں۔ اس کے بعد خان صاحب اسلام آباد میں تقریر کے لئے تشریف لائے ،اسلام آباد میں داخل ہونے پر اپنے آپ پر حملہ ہونے کا اعلان کیا اور بتایا کہ” یہ بات انہیں ایک حکومتی خط کے ذریعے بتائی گئی ہے کہ پنجابی طالبان آپ پر حملہ کر سکتے ہیں “۔ مزید کہا کہ میں شہادت سے ڈرتا نہیں ہوں اگر میرے مرنے سے مسئلہ ہوتا ہے تو مجھے مار لو مگر خان صاحب جب بھی آپ جلسے میں آئے بلٹ پروف جیکٹ زیب تن کر رکھی تھی جو کہ ایک کم عقل کو بھی نظر آرہی تھی۔ چوتھی غلطی عمران خان صاحب نے یہ کی کہ اس رات بنی گالا میں جا کر آرام کیا اوراپنے ورکرز کو بغیر لیڈر کے چھوڑدیا۔ نہ صرف خان صاحب بلکہ باقی تمام لیڈر شپ بھی سرینا اور شیرٹن میں ٹھہری ہوئی تھی۔ اور جن کا کوئی نہیں تھا وہ بیچارے جن میں مرد و خواتین دونوں شامل تھے جلسہ گاہ میں رسوا ہو رہے تھے۔ پانچویں غلطی سول نافرمانی کی تحریک کی کال تھی خان صاحب اور ان کے سوشل میڈیا کے ہاکس سے ادب سے عرض کرتا ہوں کہ جناب آپ نہ تو 10 لاکھ لوگ اکٹھے کر سکے اور نہ ہی آپ قادری صاحب کے دھرنے کی طرح منظم تھے جناب سول نا فرمانی کے لئے آپ کو دھرنا ختم کرنا پڑے گا اور گھر گھر جا کر مہم چلانا پڑے گی اور اس کام میں اگر کوئی سب سے زیادہ مؤثر ہے تو وہ جماعت اسلامی جیسی جماعت ہے یا پھر قادری صاحب اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ بھی کر سکتے ہیں مگر آپ کے لئے ممکن نہیں۔ آپ کی دھرنے کی کارکردگی سے اس سول نافرمانی والی کال نے خان صاحب کے لئے کافی مشکلات کھڑی کر دی تھیں۔ جس کے لئے انہوں نے پھر ایک سیاسی پینترا کھیلا اور وہ تھا استعفوں والا اور ریڈ زون کی جانب جانا یہ دونوں سیاسی کارڈز بالکل ٹھیک ہیں اور آئین کے مطابق ہیں۔ جو سیاسی ہلچل آئین کے مطابق ہو اسے کھلے ذہن اور دل کے ساتھ ہونے دیں یہ سیاست کی خوبصورتی ہے اور معاشرے میں اس سے سیاسی بالغ پن آئے گا۔

حکومت نے ریڈ زون کی حفاظت فوج کے حوالے کر دی، جبکہ وزیراعظم فوج کے کمانڈر کو بلانے کی بجائے سیاسی لوگوں کو بلاتے اور اُن کو بھیجتے اور اس مسئلے کے سیاسی حل پر زور رکھتے تو زیادہ بہتر ہوتا کیونکہ آپ انقلاب مارچ اور آزادی مارچ والوں کو سیاست کرنے کی دہائی دے رہے ہیں مگر خود فوج کو بلا کر اپنی سوچ کا پتہ دے رہے ہیں ۔ فوج ایک سیاسی معاشرے میں آخری حربہ ہوتی ہے چاہے اسے اپوزیشن کال کرے یا حکومت ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ ہار چکے ہیں باقی سب حربے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی یاد دلانا چاہوں گا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تو دلیل والوں کے ساتھ ہے نہ کے غلیل والوں کے ساتھ پھر غلیل والوں کو یاد کرنا کچھ عجب نہیں۔

اب ایک اور منظر نامہ دیکھتے ہیں اگر آزادی مارچ اور انقلاب مارچ دونوں کو آرام سے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کی جگہ دے دی جاتی ہے اور کوئی مزاحمت نہیں کی جاتی تو کیا ہوسکتا ہے؟ جناب اگر ایسا ہوتا ہے تو مجھے چشم تخیل سے یہ نظر آرہا ہے کہ تمام ملک میں بالخصوص تمام بڑے شہروں میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے دھرنے دے دئیے جائیں گے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ اور صوبائی نظام زندگی بھی درہم برہم کیا جائے گا، جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور مکاتبِ فکر بھی شامل ہو جائیں گے۔ تو نواز شریف صاحب کے پاس تین راستے ہیں یا تو بھاگ جائیں، یا لڑیں، یا وہ جہاں ہیں کھڑے کھڑے مرنے کے لئے تیار رہیں اب یہ حل کیوں ہیں؟ جناب آپ مشرف کا فیصلہ نہیں کر رہے اور اسی معاملے میں آپ فوج کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ فوج کی ایک بات بہت اچھی ہے کہ اگر آپ فوج کو یقین دلانے میں کامیاب ہو جائیں کہ آپ ان کے دوست ہیں تو وہ آپ کے ساتھ ہیں اور اگر انہیں یہ بات کھٹک جائے کہ آپ ان کے خلاف ہیں اور خطرہ ہیں تو وہ آپ کے دوست نہیں رہتے۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہوتی ہے میاں صاحب آپ نے وہی کیا، آپ نے ان کے سابق کمانڈر کو پکڑ کر رکھا ہوا ہے ۔ جناب آپ کو دلیری سے فیصلہ کرنا ہے اگر آپ اس حالت سے نکلنا چاہتے ہیں تو دو کام نہایت تیزی سے کرنے چاہئے یا تو مشرف کو سزا دیں یا انہیں جانیں دیں۔ دوسرا جنرل ظہیر الاسلام کی مدت ملازمت میں یا تو توسیع کریں یا ان کو ہٹا دیں۔ اس کا ایک سادہ سا فارمولا ہے کہ وزیراعظم ایک سمری دیں کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے لئے نام دئے جائیں تاکہ وہ موجودہ ڈی جی کے ساتھ کچھ دن گزار کر معاملات کو بخوبی سمجھ سکیں۔ کیونکہ ملکی حالات اس وقت بہت ہی گھمبیر ہیں اور اگر میاں صاحب نے سیاسی بصیرت سے سوچا اور چوہدری نثار صاحب کی باتوں پر عمل کیا تو جنرل راحیل شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں یہ بات طے ہو چکی ہو گی کہ دونوں لیڈروں کو باعزت واپسی کا راستہ دیا جائے گا۔ایک آخری بات جو کرنا چاہوں گا کہ ہر بڑے لیڈر کے ساتھ چند ایسے مشیر ہوتے ہیں جو اسے حالات کی سنگینی اور حقیقت حال سے آگاہ کرتے ہیں اور اس کے لئے راستہ نکالتے ہیں۔ اور ساتھ ہی پارٹیوں میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی ہر جگہ ایک عزت اور وقار ہوتا ہے۔ تاکہ اگر کبھی کوئی بحران آئے تو ان کو دوسروں کے پاس بھیجا جائے یہاں تک کہ مخالفین بھی کم از کم ان کی بات سنیں بدقسمتی سے پاکستان مسلم لیگ ن اس طرح کے دونوں لوگوں سے عاری ہے۔ اب اگر ایک چوہدری نثار صاحب کی فوج کے ساتھ بات ٹھیک ہے تو خدارا ان کی عزت کریں کیونکہ جو ان کو چلا رہے ہیں انہوں نے پیغام دے دیا ہے کہ وہ چڑیا سے باز مروانا جانتے ہیں باقی اللہ خیر کرے۔۔۔!

khurramiqbalawan@gmail.com, https://twitter.com/khurramiawan

August 23, 2014

Hazrat Ali Karam Allah Wajho (R.A)

Filed under: Uncategorized — pakistananalysis @ 5:00 pm
Tags: , , , ,

حضرت علی المرتضٰی ؓ

آج عالم اسلام کی جس شخصیت کے بارے میں لکھنے بیٹھا ہوں اُس کے بارے میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس کا آغاز کہاں سے کروں اور انتہا کیسے کروں اور کہاں کروں۔ اور وہ شخصیت ہیں حضرت علی المرتضیٰؓ ۔ آپ کا نام نامی ”علی بن ابی طالب ،بن عبد المطلب، بن ہاشم بن عبد مناف ہے “ اور کنیت ”ابوالحسنین و ابو تراب ہے،جنابِ ابوطالب کے صاحبزادے ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ہیں،آپ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی فاطمہ بنت اسد ہاشمی ہے اور وہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی۔

سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مناقب وفضائل بے شمار ہیں جتنی زیادہ حدیثیں آپ کی تعریف وتوصیف اور فضیلت میں منقول ہیں اتنی صحابہ میں سے کسی کے حق میں منقول نہیں ہیں ،حضرت علی کی مناقب میں سے جو صحیح احادیث منقول ہیں اُن کے بارے میں امام احمد اور امام نسائی نے کہا ہے کہ ان کی تعداد ان احادیث سے کہیں زیادہ ہے جودوسرے صحابہ کے حق میں منقول ہیں ،علامہ جلال الدین سیوطی نے اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ متاخر ہیں اور ان کے زمانہ میں نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ونزاع کی خراب صورت حال پیدا ہوگئی تھی بلکہ خود سیدنا علی کی مخالفت کرنے والوں کا ایک بہت بڑا طبقہ پیدا ہوگیا تھا جنہوں نے ان کے خلاف جنگیں بھی لڑیں اور ان کی خلافت سے انحراف بھی کیا ،لہٰذا علما ءاور محدیثین نے مقام علی کی حفاظتی اور مخالفین علی کی تردیدوتغلیط کی خاطر منقبت علی سے متعلق احادیث کو چن چن کر جمع بھی کیا ،اور ان احادیث کو پھیلانے میں بہت سرگرم جدوجہد بھی کی۔

اپنے زمانہ طالب علمی میں اپنی کتب سے پڑھ کر اور اپنے اساتذہ سے سن کر میرے ذہن میں حضرت علی المرتضیٰؓ کی جو تصویر اُبھرتی تھی اور جو بہت سالوں تک بنی رہی کہ حضرت علیؓ ایک غصے والی شخصیت ہیں ہاتھ میں تلوار ہر وقت لڑنے (جہاد) کو تیار۔ ایک نہیں سب ہی کے بارے میں ہمارا تخیل عجیب سا ہو گیاہے۔ اگر بچپن کے علیؓ کو دیکھا جائے اور اسلام قبول کرنے کے واقعہ پر نظر ڈالی جائے تو بھی علیؓ ایک جذباتی بچہ معلوم ہوتا ہے۔ جو جتنی بار بھی نبی نے اپنی نصرت کے لئے پکارا وہ لبیک کہتا ہوا کھڑا ہوتا ہے پھر اسے بٹھا دیا جاتا ہے۔ کسی شخصیت کیساتھ ایک اچھا ایڈمنسٹریٹرہونا جوڑ دیا جاتا ہے کسی کے ساتھ سخاوت کا وصف جوڑ دیا ہم نے کبھی ان شخصیات کو ان کے ان واحد وصف سے باہر نکلنے ہی نہیں دیا جبکہ حضرت علیؓ کے بارے میں آُپﷺ کا اپنا فرمان ہے کہ میںﷺ علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں۔ جن کی پیدائش کعبہ میں ہوئی جو دنیا میں تشریف لائے بھی تو اللہ کے گھر میںشکمِ مادر میں ہونے کے باوجود کعبہ کی دیوار شک ہوئی اور آپ کی والدہ گرامی اندر تشریف لائیں اور آپ کی ولادت ہوئی ۔ جو کہ حضرت علیؓکی کرامت تصور کی جاسکتی ہے۔ پھر آپؓ نے اس وقت تک آنکھ نہ کھولی جب تک گودِ رسالت میں تشریف نہ لے گئے۔ اور آپؓ کو گھٹی کے طور پر حضرت محمدﷺ نے اپنی زبان چسوائی اور پھر ہم یہ بات زور دے کر کہیں کہ بچوں میں سب سے پہلے حضرت علیؓ نے اسلام قبول کیا،جوکہ شاید ہم اپنے اسلاف کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔

حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی ذات وہ ذات گرامی ہے جو بہت سے کمال و خوبیوںکی جامع ہے کہ آپ شیر خدا بھی ہیں اور داماد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ،حیدر کرار بھی ہیں اور صاحب ذوالفقار بھی ،حضرت فاطمہ زاہرہ کے شوہر نامدار بھی اور حسنین کریمین کے والد بزرگو ار بھی ،صاحب سخاوت بھی اور صاحب شجاعت بھی ،عبادت و ریاضت والے بھی اور فصاحت و بلاغت والے بھی ،علم والے بھی اور حلم والے بھی ،فاتح خیبر بھی اور میدان خطابت کے شہسوار بھی،غرضیکہ آپ بہت سے کمال و خوبیوں کے جامع ہیں اور ہر ایک میں ممتاز ویگانہ ہیں اسی لئے دنیا آپ کو مظہر العجائب والغرائب سے یاد کرتی ہے اور قیامت تک اسطرح یاد کرتی رہے گی۔

چلئے دیکھتے ہین علی کا مطلب کیا ہے تو علی کا مطلب لغت کے مطابق بلند ترین اعلی ترین ہیں اور حضرت علیؓ وہ ہستی ہیں جنہوں نے حسب نصب بھی اعلی پایا اسلام کی تاریخ میں کردار بھی جن کا لازوال رہا اور جنہوں نے اپنے ہر عمل سے اس ذات حق کو بلند کیا جنگ خیبر میں جب خیبر کا قلعہ فتح ہونے میں نہیں آرہا تھا تو آخر کارآپﷺ نے حضرت علیؓ کو یاد کیا آپؓ آشوب چشم میں مبتلا تھے حضورﷺ نے اپنا لعاب دہن ان پر لگایا اور آپؓ کی آنکھیں مکمل طور پر تندرست ہو گئیں اور آپؓ نے خیبر کا دروازہ اکھاڑ دے مارا اور مرحب جو اپنی طاقت و غرور کے نشے میں جھوم رہا تھا اسے واصلِ جہنم کیا۔ اس واقعے کو دیکھتے ہوئے بہت سے مسلمانوں کے دل میں حضرت علیؓ کی دھاک بیٹھ گئی اور وہ لوگ آپ کے پاس آپ کے خیمے میں آئے اور آپ کو خود دادِ شجاعت دی اور قریب تھا کہ وہ شرک میں مبتلا ہو جاتے کہ آپ نے اپنے سامنے رکھی جو کی روکھی سوکھی روٹی کو توڑنا شروع کیا مگر نہ روٹی نے ٹوٹنا تھا نہ ٹوٹی وہ لوگ جو آپ کے پاس تشریف لائے تھے آپس میں کھسر پھسر کرتے ہوئے حضرت علیؓ کے خیمے سے باہر چلے گئے کہ اس سے تو روٹی نہیں ٹوٹتی اس نے نہ جانے خیبر کا دروازہ کیسے اکھاڑ ڈالا۔ حضرت علیؓ مسکرائے اور پانی میں روٹی بھگو بھگو کر کھانے لگے میں ایسی ہستیوں کی شان کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ یا اللہ ان لوگوں نے اپنی ہستیوں کو مٹا مٹا کر تیری ذات کو قائم کیا ہے تیری ذات کو بلند کیا ہے اس لئے ان کا ذکر ہمیشہ قائم ہے اور قائم رہے گا بلکہ وہ بلندی اور مقام حاصل کرے گا کہ جس کو کبھی ذوال نہیں ہو گا۔ اس طرح جنگ خندق میں عمرو بن عبد اود جب خندق عبور کر کے آگیا تھا اور للکار رہا تھا تا آپﷺ نے تین مرتبہ فرمایا ہے کوئی جو اس کی زبان قطع کرے کوئی سامنے نہیں آیا تیسری مرتبہ حضرت علیؓ سامنے آئے اور مقابلے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ تو جب وہ میدان کی جانب جانے لگے تو آپﷺ نے فرمایا کہ آج کُلِ کفر کے مقبلے میں کُلِ ایمان جا رہا ہے ۔ آپؓ کو حضورﷺ سے محبت وعشق کا یہ عالم تھا کہ آپ نے فرمایا کہ میں حضورﷺ کے پیچھے ایسے چلتا ہوں جیسے اونٹنی کے پیچھے اس کا بچہ چلتا ہے آپﷺ کے ساتھ حضرت علیؓ کی محبت کی ایک اور مثال سورج کا پلٹنے والا واقعہ ہے ۔ غزوہ خیبر کے دوران ایک مقام پر حضرت محمدﷺ حضرت علی کی گود میں سر رکھ کر سو رہے تھے۔ عصر کا وقت ختم ہو رہا تھا نماز قضا ہو رہی تھی اگر حضرت علیؓ چاہتے تو آپﷺ کو جگا کر آپﷺ سے درخواست کرتے کہ نماز ادا کر لیتے ہیں پھر سو جائیں مگر عشق نبی تو مانتا ہی نہیں کچھ بھی وہ تو کہتا ہے

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

کیونکہ عقل کا شیوہ تو سوچنا پرکھنا تنقید کرنا ہے دلائل لانا ہے جبکہ عشق آنکھیں بند کر کے سر تسلیم خم کر دیتا ہے اس لئے حضرت ابراہیم کو جب نمرود نے آگ میں کودنے کو کہا تو عقل بھی تو کہتی ہے کہ یہ خلاف شریعت ہے نہ خلاف عقل ہے کہ آگ میں کود جایا جائے مگر ابراہیمؑ کہ سامنے معشوق کی عزت کا سوال تھا اسی لئے۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشا لب بام ابھی

اسی طرح حضرت علیؓ نے بھی عشق نبی کو مقدم کر کے اپنی نماز کو اس پر قربان کردیا۔

نمازیں گر قضا ہوں پھر ادا ہوں
نگاہوں کی قضائیں کب ادا ہوں

حضرت علیؓ آفتاب نبوت کو دیکھنے میں مگن تھے اور دوسری جانب آفتاب غروب ہونے کو جا رہا تھا ۔ جب حضرت علی کی نظر سورج پر پڑی اور آپ کو نماز قضا ہوتی ہوئی محسوس ہوئی تو آپ کی طبیعت متغیر ہوئی اور جب کوئی صورت نہ بن پڑی تو آپ کے آنسو رواں ہو گئے جب آنحضرتﷺ بیدار ہوئے تو انہوں نے حضرت علیؓ کا چہرہ آنسوؤں سے تر دیکھا تو تو پوچھا کیا ہوا ہے؟ علیؓ نے فرمایا نماز چھوٹ گئی تو حضرت محمدﷺ نے فرمایا تو قضا پڑھ لینا اب کی بار حضرت علیؓ نے حضرت محمد ﷺ کے چہرہ مبارک کی جانب دیکھا اور سوالیہ انداز میں دیکھا میرا خیال یہ کہتا ہے کہ ایک عاشق نے اپنے معشوق سے یہ سوال کیا ہو گا کہ آپﷺ جیسے معشوق کی غلامی میں نماز جائے اور قضا پڑھوں ؟ آپﷺ نے دیکھا کہ حضرت علیؓ قضا نہیں نماز ادا کرنا چاہتے ہیں تو والی دو جہاں محمد مصطفیﷺ نے یہ دعا فرمائی ہو گی اے اللہ علیؓ تیری اور تیرے رسولﷺکی اطاعت میں مصروف تھے اس وجہ سے ان کی نماز قضا ہو گئی پس سورج کو پلٹا دے تاکہ عاشق کی نماز ادا ہو سکے اور پھر چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ اللہ نے دعا قبول فرمائی اور اجازت اپنے محبوب کو دی کہ آپ اشارہ فرمائے اور سورج پلٹ آئے آپﷺ نے ایسا ہی کیا اور سورج ایک تابعدار غلام کی طرح سے پلٹ آیا اور حضرت علیؓ نے نماز ادا کی ایسی نماز کسی کو نہ نصیب ہوئی تھی نہ ہوئی ہے اور نہ ہو گی یہ ہیں علیؓ۔ اور یہ میرا ماننا ہے کہ نبی کا سونا جاگنا اُٹھنا بیٹھنا بولنا چالنا غرض سب کچھ حکمِ ربی ہوتا ہے نبی اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرتا۔

اسی طرح مواخات کا موقع جب آیا تو آپﷺ نے مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بنایا مگر حضرت علیؓ کو کسی کے ساتھ بھائی چارہ کے رشتہ سے منسلک نہ کیا حضرت علیؓ کچھ رنجیدہ ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا اے علی آپ دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہیں (جامع الترمزی) حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ کو فرمایا اے علی تم مجھ سے وہ نسبت رکھتے ہو جو حضرت ہارون علیہ اسلام کو حضرت موسی علیہ اسلام سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں(جامع الترمزی)۔ اگر ہم علم و فضل میں بھی مشاہدہ کریں تو تمام خلفائے راشدین جو آپؓ سے پہلے آچکے تھے اپنے فیصلوں میں آپ کی رائے کو فوقیت دیتے تھے حضرت عمرؓ نے تو یہاں تک کہ دیا کہ اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمرہلاک ہو جاتا۔

ہم نے اس طرح کی شخصیت کو صرف بچوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والا اور صرف ایک شجاع کے طور پر تاریخ کے اوراق پر لکھ ڈالا۔ جب کہ آپؓ فنون لطیفہ اور حسِ مزاح سے عاری نہیں تھے بلکہ ایک اچھی حسِ مزاح رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت ابو بکرؓ ، حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ راستے میں جا رہے تھے اور اس ترتیب سے کہ حضرت علیؓ درمیان میں تھے اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ دائیں اور بائیں تھے۔ کسی نے راستے میں کہا کہ دیکھو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ “لنا” لکھا ہوا ہے کیونکہ حضرت علیؓ کا قد حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کے مقابلے میں تھوڑا چھوٹا تھا حضرت علیؓ نے جب یہ الفاظ سنے تو مسکرا کے رک گئے اور جملہ کسنے والے کو کہا کہ اب دیکھو کہ یہ کیا لکھا ہوا ہے تو یوں معلوم ہورہا تھا کہ”لا” لکھا ہو اہے جس کا مطلب ہے کچھ نہیں ۔

اور آیت مباحلہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تمام تفصیل سے گریز کرتے ہوئے اس آیت میں مباحلہ کے لئے جو شخصیات سامنے آئیں تھیں عیسائی پادریوں کے ان میں حضرت محمدﷺ اپنے نفس کی جگہ جس شخصیت کو لائے تھے وہ تھے حضرت علیؓ اس لئے خیبر میں حضرت محمدﷺ نے فرمایا تھا کہ کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دونگا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عطا فرمائیگا وہ شخص اللہ و رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ و رسول اس کو دوست رکھتے ہیں۔

میرے مسلمان بھائیو یہ ہیں پرورہ رسول،اقلیم ولایت کے شہنشاہ،عبادت و ریاضت میں مسلمانوں کے پیشوا،میدان کارزار کے تاجدار،معرکہ خیبر کے شہسوار،رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غم خوار،خلفاءثلاثہ کے خیر خواہ،تمام صحابہ کے محبوب،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محب صادق جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کا مژدہ سنایا،جن سے بغض رکھنا کفر،جن سے محبت رکھنا ایمان،خاتون جنت کے شوہر،جنت کے جوانوں کے سردار ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ عم زاد،جن کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نازبرادری کریں،جن کوتہجد پڑھوانے کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو جگانے آئیں،جو اگر روٹھ جائیں تو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم منانے آئیں،اور اسی عالم میں بوتراب کا لقب پائیں،جس سے وہ ناراض ہوجائیں ،وہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا معتوب،اور جس سے وہ راضی ہوجائیں وہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ہو،یہ وہ ہیں جن کی محبت میں جیناعبادت اور مرنا شہادت ہے یہ ہیں خاتم الانبیاءحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الخلفاءسیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ۔

میرے ہاتھ یہ جملہ لکھتے ہوئے شدتِ جذبات سے کانپ رہے ہیں کہ اس طرح کی شخصیت کو 19رمضان کو نمازِ پر خوارج میں سے ایک ابن ملجم نے اچانک آپ پر تلوار کا بھرپوروار کیا وار اتنا سخت تھا کہ آپ کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی اور تلوار دماغ پر جا کر ٹھہری، اور 21رمضان المبارک شب اتوار 40 ہجری میں آپ کی شہادت ہوئی،انا للّٰہ وانا الیہ راجعون، یہ شہادت صرف حضرت علیؓ کی نہیں تھی بلکہ اُمت کے شیرازے کی شہادت تھی، خلافت سے ملوکیت کا سفر تھا جو آج بھی ہم بھگت رہے ہیں۔

اپنی بات اُس واقع پر ختم کروں گا کہ حضرت علیؓ سے کسی نے پوحھا اے علیؓ کیا ہوا کہ آپ کے دور میں شورش جنگیں اعر بےآرامی زیادہ ہے آپ سے پہلے ادوار میں ایسا نہ تھا تو آپ نے فرمایا۔

پہلے والوں کے مشیر ہم تھے، ہمارے مشیر تُم ہو۔

khurramiqbalawan@gmail.com, https://twitter.com/khurramiawan

This Article (edited version) is already published in daily Pakistan news paper few days back

Hi Boby How Are You………..!

ہائے بوبی ہاؤ آر یو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

آج میرا سرنامہِ تحریر وہ جملہ ہے جو شیخ رشید احمد صاحب نے استعمال کیا۔ اور لوگ جانتے ہیں کہ “بوبی” کس شخصیت کا محبت سے پکارے جانے والا نام ہے۔ تحریر کے آخر میں بتاؤں گا کہ اِس سر نامے کی ضرورت کیوں تھی ۔

بات چیت کا وقت گزر گیا ہے اب کوئی بات چیت نہیں ہو گی، حکومت اگست کے آخر تک چلی جائے گی، نواز شریف ، شہباز شریف خود فیصلہ کر لیں کہ کہ پہلے کون جائے گا؟ یہ سب وہ بیانات ہیں جو کہ عمران خان صاحب اور ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے آرہے ہیں۔ طاہر القادری صاحب فرماتے ہیں کہ اگر مجھے گرفتار کر لیتے ہیں تو کارکن عمران خان کا ساتھ دیں کارکن میری پرواہ کئے بغیر عمران خان کے مارچ میں شامل ہوں۔یہ وہ بیان تھا جس نے قادری صاحب کی طرف سے عمران خان صاحب کی جانب بڑھتے ہوئے ہاتھ کا اشارہ دیا۔ پھر عمران خان نے ایک بیان دیا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو میرا بدلہ شریف خاندان سے لیا جائے اور یوم شہداء میں پاکستان تحریک انصاف کی شرکت کا اظہار کیا۔ پھر طاہر القادری صاحب نے آخر کار اپنے انقلاب مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دیا جو کہ انہوں نے بھی 14 اگست ہی رکھی ہے یعنی حکومت کے لئے نہ شد دو شد پھر جس بیان کی جانب میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ ہے طاہر القادری صاحب کا وہ جملہ جو انہوں نے انقلاب مارچ کی تاریخ کے اعلان کے آخر میں کہا کہ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو شریف برادران کو میرے خون کے بدلے میں قتل کردینا یہ وہ موقع ہے جہاں آکر عمران خان اور طاہر القادری ایک ہو گئے۔ وزیر اعظم صاحب نے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جس میں پاکستان تحریک انصاف کا کوئی بھی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔ نواز شریف صاحب کہتے ہیں کہ حلقوں کی دوبارہ گنتی کے عمل پر بات چیت کرتے ہیں یعنی نواز شریف صاحب بھی بات چیت نہیں کرنا چاہتے دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے ایک عجیب فیصلہ سنایا ہے کہ کنٹینرز لگانے سے انسانی حقوق متاثر نہیں ہو رہے ہیں۔ دست بستہ عرض ہے جناب آپ انسان صرف اشرافیہ کو خیال کرتے ہیں جن کے آنے جانے کیلئے روٹ لگائے جاتے ہیں یا جو صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے اور جہازوں کے ذریعے آتے جاتے ہیں، شاید وہی انسان ہیں۔ ویسے ایسے فیصلوں سے محسوس ہوتا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ٹریبونل کیا کرتا ہو گا اور کیسا فیصلہ دے گا۔ میں طاہر القادری صاحب کے حق میں نہیں ہوں بالکل نہیں ہوں ان کی بہت سے باتوں سے مجھے بھی اختلاف ہیں مگر یوم شہداء منانے سے کون سی قیامت ٹوٹ پڑنی تھی کیا ہو جانا تھا، اگر ان کو یہ سب کرنے دیا جاتا اور کسی قسم کی روک ٹوک نہ کی جاتی تو کیا ہو جانا تھا؟ اگر ان کو ایسا کرنے میں آزادی دی جاتی اور ان کی حفاظت کی جاتی تو کیا برائی تھی؟

میں اپنے تمام تجزیہ کاروں سے سوال عرض کرنا چاہونگا جو کہ رہے ہیں کہ طاہر القادری کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے یہ ایک سیاسی طاقت نہیں ہے میں سوال کرنا چاہونگا کہ طالبان بھی سیاسی طاقت نہیں تھے وہ بھی اس سسٹم کو نہیں مانتے تھے بلکہ وہ تو آئین کو ہی نہیں مانتے تھے، ان سے مزاکرات کا سلسلہ کیوں شروع ہوا اور کیوں جاری رکھا گیا؟ کیوں اس کی کامیابی کیئے دعائیں کی گئیں۔ کیوں ان کو ہمارے بڑوں نے ناراض بچے کہ کر مخاطب کیا؟ کیا طاہر القادری کے یہ لوگ یہ پاکستانی شہری جنہوں نے ووٹ بھی دئیے ہونگے اس قابل بھی نہیں کہ انہیں یوم شہداء منانے دیا جائے۔ کیا ایک پر امن شہری طالبان سے زیادہ خطرناک ہے؟ کیا ایک پر امن رہنے والاووٹ دینے والا پاکستانی شہری اپنے ساتھ ہونے والی ذیادتی، اپنے حقوق نہ دیے جانے پر احتجاج اور وہ بھی پر امن احتجاج کا حق نہیں رکھتا؟ کیا اس کا ووٹ دینا اسے ملکی سیاست کا اس نظام کا حصہ نہیں بنا دیتا؟

کیا ایک عام شہری کو اس نظام کی خامیاں اور نظام کو غلط ہوتا دیکھ کر آواز بلند کرنے کا حق نہیں ہے؟ اس پر اکثر جگہ سے آواز آتی ہے کہ اگر ہم انہیں یہ کرنے دیں تو یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا مگر یہ سب “اگر” سے مشروط ہے اور جب تک کچھ ہوتا نہیں اس کے بارے میں ہم میں سے کوئی بھی حتمی فیصلہ نہیں دے سکتا کیونکہ اس اگر مگر کے تمام مفروضے طالبان سے بات چیت کے تمام مراحل میں طے ہو چکے ہیں۔ بہت مرتبہ یہ بات کی گئی کہ ان سے بات کی تو جائے انہوں نے ایسا کہا تو نہیں نہ انہیں دیکھا جائے کہ وہ کرتے ہیں یا نہیں۔ تو ایک عام پاکستانی شہری کو اپنی بات کہنے کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا۔

میں یہ بات خود کہتا ہوں کہ طاہر القادری کچھ نہیں تھے مگر انہیں اس حکومتی مزاحمت نے کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونے میں تبدیل کر دیا ہے اگر آپ خوفزدہ نہیں ہیں تو روکتے کیوں ہیں۔ اگر ان کے مطالبات غلط ہیں تو ان کو روکنے کا یہ طریقہ درست نہیں بلکہ ان کو دباؤ بنانے کا موقع نہ دیں ان کے بنائے ہوئے پریشر کو نکلنے دیں۔ میں نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ طاہر القادری صاحب کا کردار پاکستان کی سیاست میں ذیادہ نہیں دیکھ رہا۔ کیونکہ انہوں نے خان صاحب کی مزاحمت کی تحریک آزادی مارچ کو تیز کرنا ہے اور یہ بات انہوں نے اپنا فرضِ عین بنا رکھی ہے۔ تو آپ کی توجہ صرف عمران خان صاحب پر ہونی چاہئے۔ قومی سلامتی کانفرنس کو ہی لے لیجئے اس کانفرنس میں چوہدری نثار صاحب اور شہباز شریف صاحب شامل نہیں تھے کہا یہ گیا کہ بارش ہو رہی تھی اس وجہ سے جا نہیں سکے خیر یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ چوہدری صاحب کے بارے میں ہم کچھ قیاس آرائیاں تو کر سکتے ہیں مگر شہباز شریف صاحب تو نواز شریف صاحب کے بھائی ہیں وہ تو ایسا نہیں کر سکتے خیر اس قومی سلامتی کانفرنس میں جو رویے سامنے آئے ہیں ان سے یہ کانفرنس بھٹو صاحب کی 1977 کی اس آخری میٹنگ کی یاد دلا رہی تھی جس میں انہوں نے بھی فوج کو ساتھ بٹھا کر فوٹو سیشن کروالیا تھا کیونکہ اسے اعتبار یا نیت کچھ کہ لیں جب اعتبار ٹوٹ جائے اور نیت بدل جائے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔اور آج شاید اعتبار ٹوٹ چکا ہے ورنہ اس کانفرنس میں رویے اتنے سخت نہ ہوتے کہ چہروں سے عیاں ہو جائیں۔

مگر اب سوچنا یہ ہے کہ ہو گا کیا؟ ایک عام پاکستانی کو اس بات سے غرض نہیں ہے کہ حکومت جارہی ہے کہ نہیں ، نواز شریف ہے کہ عمران خان، قادری ہے یا کوئی اور۔ اس کا مطلب اِس کی غرض صرف دو وقت کی روٹی ہےاس کا مسئلہ بجلی ہے اس کا مسئلہ پانی ہے اس کا مسئلہ اس کے بچوں کا مستقبل ہے جو عوام کو یہ تمام ضروریات دے گا وہی اس کا مسیحا ہے، وہی اس کا نجات دہندہ ہے کیونکہ ہم نے اپنے ہر طرز عمل سے اس عوام کی آواز کی اہمیت ختم کر دی ہے ہم نے اس عام پاکستانی کو پہلے طبقات میں تقسیم کیا پھر اسے ختم کرنا شروع کر دیا اور آج بھی ہمارے اہل اقتدار ایک عام پاکستانی کو ایک کاغذ کے ٹکڑے (بیلٹ پیپر) سے زیادہ کی اہمیت نہیں دیتے۔

میں ان عام پاکستانیوں سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا کبھی انہوں نے عمران خان اور جناب طاہر القادری صاحب سے سوال کیا ہے کہ یہ نظام لپیٹ دیا جائے بخوشی لپیٹ دیں مگر اس کی جگہ کیا؟ کون آئے گا؟ کونسا نظام آئے گا؟ عمران صاحب اور طاہر القادری صاحب دونوں نے کوئی پلان آف ایکشن نہیں دیا اس نظام کے علاوہ کیا؟ نواز شریف حکومت چھوڑ دیں ، شہباز شریف پنجاب اسمبلی توڑ دیں تو کیا باقی صوبے بھی اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے؟ مڈ ٹرم الیکشن ہو ٹھیک، مگر کیسے آپ الیکشن کمیشن کی کسی بات کو اس وقت ماننے پر راضی نہیں ہیں۔ عمران خان صاحب کے بقول بہت سی الیکشن کی ریفارمز لازمی ہیں جن کے بغیر کسی بھی الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں میں یہ سب باتیں مان لیتا ہوں ۔ مگر یہ تو بتائیں کہ نواز شریف صاحب چلے جاتے ہیں ن لیگ کی حکومت چلی جاتی ہے تو پھر یہ ریفارمز کیا عبوری حکومت کرے گی۔ عبوری حکومت کے پاس اس طرح کے عوامل کا مینڈیٹ ہی نہیں ہوتا تو اس کے بغیر الیکشن کا فائدہ کچھ نہیں کیونکہ صرف ایک چھوٹی سی حقیقت اپنے پڑھنے والوں کی نظر کرنا چاہتا ہوں ۔ 2013 کے الیکشن میں ووٹر لسٹوں کا بھی بہت شور سنا گیا ہے کہ یہ لسٹیں اپ ڈیٹ نہیں ہوئیں ہیں اس میں بہت سی خرابیاں ہیں۔ اب الیکشن قوانیں کا کیا کیا جائے کہ جن میں یہ لکھا ہے کہ ہر سال ووٹر لسٹیں نئی مرتب ہونگی اور وہ بھی نادرہ کے ریکارڈ سے نہیں بلکہ گھر گھر جا کر مردم شماری کے انداز میں یہ فہرستیں مرتب کی جائیں۔ اب صرف اس ایک شق کو مکمل کرنے کے لئے کتنا عرصہ چاہئے کتنے لوگ درکار ہیں۔میری تحریر باشعور لوگ پڑھ رہے ہیں اس لئے مجھے مزید وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں۔ خان صاحب نے نہ تو اس بات پر اور نہ ہی مردم شماری کے ایشو پر کوئی بات کی ہے جو کہ عرصہ 16 سال سے رکی ہوئی ہے۔ شاید ان کی نظر میں نواز شریف صاحب اگر مستعفی ہو جاتے ہیں تو یہ سب کام خود بخود ہو جائیں گے۔

ان سب باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے میرا تخیل یہ کہتا ہے کہ ملکی نظام دوبارہ سے ایک خلا کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مگر قانون فطرت ہے کہ خلا نہیں رہ سکتا تو پھر کیا ہو گا؟ اور کون ہو گا جو اس خلا کو پر کرے گا؟ بہت آسانی سے سمجھ میں آنے والی بات ہے اگر ابھی الیکشن کروائے جاتے ہیں تو تمام کہی گئی باتیں جو الیکشن کمیشن ، الیکشن قوانین کے بارے میں کی گئی ہیں وہ سب اور ان قوانین میں تبدیلی یا قوانین کا اجراء کیسے ممکن ہو گا۔ ان تمام باتوں کو، تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو فعال بنانے عوامی فلاحی ریاست بنانے کے اقدامات اور ان اقدامات و قوانین پر عملدرآمد کے لئے ایک خاص عرصہ چاہئے تاکہ یہ قوانین یہ ادارے ایک خاص رنگ میں رنگے جائیں اور بظاہر تو وہ رنگ عوام کی فلاح و بہبود کا ہو گا اس میں فلاح کتنی ہوتی ہےاور عوامی بہبود کتنی ہوتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر اس سب کے بعد ہی الیکشن ہونا چاہئے ایک صورت اور ہو سکتی ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کو بدل دیا جائے اور نئے سربراہ کی قیادت میں ادارہ نئے الیکشن کروائے مگر اس طرح سے عمران خان صاحب کے لئے اقتدار میں آنا ایک بار پھر مشکل نظر آتا ہے کیونکہ عوامی رد عمل یہی ہو گا کہ کیا سب کچھ نواز شریف کے جانے سے ٹھیک ہو گیا ہے۔

چیف آف آرمی سٹاف نے کور کمانڈر کانفرنس بلا لی ہے جس کے اختتام پر ایک حسب سابق عوامی اور معاملہ فہمی والا بیان دیا جائے گا جس سے عام تاثر یہی ملے گا کہ نواز شریف صاحب کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں جب کہ خاموشی ہی اصل خطرہ ہواکرتی ہے۔ سیاسی حکومت تو شاید قادری صاحب کو ان کے مداحوں اور انقلاب مارچ کے شرکاء کے ساتھ لاہور سے جانے نہ دے جو کہ بہت نادانستگی ہو گی۔ اور اگر ایسا کیا گیا تو جگہ جگہ ہر بڑے شہر ہر بڑے علاقے میں احتجاج، دھرنا، جلاؤ، کھیراؤ اور انارکی کی صورت حال پیدا ہو جائے گی کیونکہ ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ جو قافلے لاہور آرہے تھے یوم شہداء کے لئے ان کو آنے نہیں دیا گیا اور قادری صاحب نے بھی ان کو واپس جانے کا کہا تھا۔ اس تعداد کو مد نظر رکھنا انتہائی لازم ہے کیونکہ اگر مختلف علاقوں میں انارکی پھیلے گی تو اثرات اسلام آباد تک بھی جائیں گے اور وہاں انارکی کا مطلب ہے کہ فوج سامنے آئے اور فوج اپنے ہم وطنوں پر نہ تو گولی چلاتی ہے اور نہ ہی انہیں مارتی ہے، کیونکہ پھر وہ اپنے عزیز ہم وطنوں کس کو کہے گی۔ میں بار بار کہ رہا ہوں کہ اس بار میرے عزیز ہم وطنو نہیں ہو گا کچھ اور چہرے ہونگے جنہیں عرف عام میں ٹیکنو کریٹ کہا جاتا ہے۔ اس حکومت کا سربراہ کوئی وردی والا نہ ہو گا مگر وردی والے کے بغیر بھی نہیں ہو گا۔ اور اگر لاکھوں کے قریب پاکستانی اپنی ہی فوج کے سامنے ہوں تو شیخ صاحب باہیں کھول کر یہ جملہ کہنے میں حق بجانب ہونگے جس کا جواب بھی شاید خوش دلی سے آئے اور وہ جملہ ہے “ہائے بوبی ہاؤ آر یو”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

khurramiqbalawan@gmail.com, https://twitter.com/khurramiawan

This article is already published in Daily Pakistan few days back.

November 27, 2013

Gen Ashfaq Pervaiz Kiyani ends who will followhis Footprints?

 

This is first time when an Army chief announced his retirement himself. The question arises that why he did so, what are the conditions of army and country?

First of all, we should understand that there is nothing wrong to announce retirement. Although it’s the prerogative of Prime Minister of Islamic Republic of Pakistan to do so, but Gen. Ashfaq Pervaiz Kiyani had to announce himself because the rumors regarding his extension were getting ambiguous till he decided to diminish all these rumors, which ruined his efforts to regain credible status and respect of the institution after Gen. Musharaf’s era.

Secondly, he established a good gesture to all the national and international forces and made an end of speculations at all levels including political, civil society and super powers. With all this, he ended the resentment element in the political forces of the country and hatred of a common man regarding these key or ruling posts.

Thirdly, he gave a strong message to the international political actors that democracy now in Pakistan strengthened and you can only deal with the people of Pakistan through their representatives. Hence, there is no other shortcut to deal with Pakistan.

Gen. Kayani is a committed person, he does not believe in words but in actions. He always said that Pak Army doesn’t want to derail the political system and he rendered support every time for country’s democracy. In 2013 elections, he played a pivotal role not only to conduct fair and free election but also carried successfully till end.

Besides, he served on many positions with distinctions in his career. He set footprints for upcoming (COAS), the upcoming (COAS) should be as calm and as committed as he is, he is perfect in strengthening civil military relationships, conducting war on terror and handling various intense situations in extreme pressure.

It’s time for Mian Muhammad Nawaz Sharif to make decision; in history he preferred his loyalty with him over merit when he appointed Gen. Waheed Kakar in 1993 and Gen. Musharaf in 1998 as army chief, and the price of these two times had been paid by people of Pakistan and democracy. My analysis in all recommended names I found only Name and that is Lieutenant Gen. Raheel Sharif. Now the question arises why he only, his credentials are not extra ordinary then the others, lets now check the others, Lieutenant Gen Haroon Aslam and Lieutenant Gen Rashid Mahmood both are going to retire on April 2014 which makes them the prime contenders for the post of COAS.

Lieutenant Gen Haroon Aslam is currently Chief of Logistics Staff but Haroon Aslam is a former commando and he was also part of the team that ousted Mian Muhammad Nawaz Sharif from his position in 1999 and brought Gen. Musharraf to power.

There is another tradition considered in which it is the Chief of General Staff who is considered as the army chief in waiting, Gen. Rashid Mahmood the current CGS has the best of threes worlds, on one hand he is considered as Kayani’s man as well as being close to the Sharifs because he has served as Corp commander Lahore, and also belongs from Lahore city. The tradition in four months of the government that Sharifs would prefer a Punjabi as army chief and one from Lahore is an added bonus. Gen. Mahmood has good ties with Americans also he has much interaction with international players than any other four Generals; he knows how to deal with them in any situation because he has in most of the meetings on International level. He also belongs to “7 Baluch rejment” while Gen. kayani belong to “5 Baluch regment” which is same time positive and negative point for Gen. Mahmood. Interestingly GHQ have already started giving unannounced protocol and respect to Gen. Rashid Mahmood as next chief

Third on the seniority list is Lieutenant Gen. Raheel Sharif, lets skip him for a while, there are two dark horses in the race, we move on them Lieutenant Gen. Tariq khan fourth on seniority list, he is the key person and if we want negotiations or going to launch operation against Taliban in both of the conditions we need him because he monitored Bajor, Mohmand, Deer, Sawat, Buneer, and north Waziristan operation directly, but he has his own mindset also, and does not follow the foot printouts of Kayani. The 5th one Lieutenant Gen.Muhammad Zaheer-ul-Islam who is also on a key post means D.G ISI, and Ex. Corp Commander Karachi both the 4th and 5th numbers are the persons requirement of country to perform their duties where they are, because their temperament and mindset for handling the things are totally different than kiyani. There horizon is a bit narrow then the others.

So in the end we have Lieutenant Gen.Raheel sharif, the third most senior officer, he is brother of Maj. Shabir Sharif Saheed a war hero of 1965. Gen. Raheel is a resident of model town Lahore and, there for a neighbor of the Sharifs. Although his chances are very bleak but same time it’s a lucky point for him for COAS of Pakistan Army. But in Pakistan the appointment of Army chief is a double edged sword??  

Shehzada Khurram Iqbal Awan

E-mail:   khurramiqbalawan@gmail.com,

http://khurramiqbalawan.blogspot.com/

https://twitter.com/khurramiawan

October 30, 2012

Operation is the only Solution?

We are very much expert to disgrace our self, in case of malala now our civil and military higher officials decided to make operation in South Waziristan, how much shameful for us that we intend to exploit others, we do not muster courage to announce decision to nation. In south Waziristan operation we repeat the same habit that we use malala that due to this incident we are going to do the operation, with this thing we put malala character under a big question mark, that this thing is a drama which is staged by some super powers for this operation, she is the character of the drama, she is nothing, don’t worry about her, she is not positive character girl, his father is agent. Our higher authorities failed to convey that wether operation is legitimate or not, are we justified in it or not, like they failed to protect their citizen for internal threat, like they failed to establish the writ of government in some areas of the country. We are going to take another wrong decision, on wrong time, for wrong results.

Now we look into the area of South Waziristan, total area of this agency is 6619 km, population (as of 1998) of this area is 429841, ruling tribe is wazir, and it has 2 head quarters in winter Tank and in summer Wana. The race of wazir is warriors, they repel all the time the invasion of the out sides the religious factor is dominant they are traditionally conservative the practical implementation of the laws of Government of Pakistan do not exist. They have their jirga system, the way to reach to South Waziristan is from D.I.Khan, tank, if we start this war or operation we disturb the more settled areas of the country, the Taliban’s move in the disguise of common man in the settled areas and start rebellious activities which challenge the writ of the government also. Is Pakistan able to handle this kind of situation, or after this operation we are going to start operation in our settled areas which shatter our economy our security and our sovereignty, are we able to handle this kind of challenge. Why every time we and our establishment capture by the hawks in every decision of our country we only show the time pass theory.

President Asif Ali Zardari also said that those who give us suggestion they must keep in mind that without consensus this operation cannot launched without vested interests of Pakistan. He is right but we must pay attention that who was those who suggested operation in South Waziristan. Whether they try to watch interest of Pakistan or others?. Why we never try to engage the tribal lords into the political process?, why we fail to bargain with them?, why we don’t try to implement rule of law in these areas?, why chief justice do not take the suomoto action and make a judicial system for them or sharia courts, and bound government to establish and operationalize these courts, why don’t we invite them to sit on the table and ensure them that Pakistan is also their country, they are also respectable citizen of this country. This surely will eliminate the non state actors by these lords from the society.

Some of my readers question that the drone attacks are the big reason for their changed attitude, my answer is that in 1994, there was no drone attack, even then why did mullah Fazlullah at this time challenge the writ of government. And no one from so called civil society react and say a single word, when Taliban break and breach the pacts with the government, why our right wing remains hushed, why they didn’t play a role to sit with the tribal men and pay their attention towards sensitivity of breaching pacts. 

I request to Molana Fazl-ur-Rehman that he is a national leader he is respectable for us, he claims that he knows the pulse of the area, the people he should play the role in it, he should request tribal elders to stop the non state activities and push the elements back to their origin. He compels them that there is no need of armed jihad in Pakistan, in Pakistan you have right to say everything if your basic rights are safe and if you want to do something for people then jihad is not the way the way is process political process come into it and change the system, because with this kind of jihad, these Taliban killed their own Muslim brothers and sisters.

October 12, 2012

MALALA WE ARE SORRY, WE ARE UNABLE TO CATCH THE RESPONSIBLE, AND DRONES ARE NOT THE WAY, SO YOU MUST PAY THE PRICE

It was very heart shattering news to hear aboutsad incident of swat school van which hit of Malala Yousaf Zai alongwith other daughters of nation, unfortunately the culprits searched malala and put her out of the school van and shoot her, the bullet travel from her head to shoulder, there was 3 hour operation which is a successful operation according to doctors, but malala is still semi conscious condition. May Allah she gets well soon. In all this thing Taliban owned the responsibility of Malala incident, i want to ask whether they Taliban or Jahilan, they are so week that they are so much afraid from a girl, is this called shariat?, they deserve what kind of treatment, for whom they work for, this incident deliberately happened to justify drones?. For finding the answers of these questions I have analysed the some incidents.

Imran Khan makes a very good effort in shape of Waziristan Aman March, it highlighted the issue but Khan Sahib said that it is the necesacity of time that the drone should stop, we want to handle these Talibans by our self with our ways, vary right, I want to ask khan sahib sawat is a settled area and army operation had been launched, how do you see that how Taliban or Jahilan, act and how they make an attempt of murder a daughter of soil, khan sahib in a program with syed tallat hussain you answered him that your party have members in KPK in tribal area.  During T.V. Interview with Tallat, you said that want that I give a statement against Taliban and endanger all my party men, khan sahib if you don’t have courage to say truth in front of your country fellow then how can we believe that you will talk fearlessly in UN regarding drone?, Adding I must say that talking against Taliban or Jahilan is unsaved due to your party workers then how can you enforce all nation on the brink of war when you said that you will hit drone by your air force, I must say that Imran Khan kindly step in the shoes of National leader not as leader of PTI, Imran Khan sahib, the culprit of Malala is still in sawat and we are facing a war (gorilla war). infect you are unable to find enemy then you have to dependent on intelligence report, when you find your target then you try to crush him by un identified ways and by unidentified means and the whole operations are working under unusual methods.

Imran khan sahib Taliban or Jahilan, give threat to that girl (Malala) that if she survives even then we would attack on her and kill her, khan sahib before everything kindly say to Taliban or jahilan, don’t do this, engage them in some negotiations and if you get success then you have a right to say stop drone attacks in these areas and if not, then what were your aims then?.

Khan sahib it is very much easy that take some analysts with you and manipulate in some talk shows like regarding your Waziristan Aman March some analysts said that there were 25000 cars and jeeps are in the March and almost 100000 person participated in this march, while BBC said that there were 1300 to 1400 motor vehicles and 18 to 20 thousand persons, along with that from tank ultimately Pak Army denied to shoulder responsibility of security due to which you decided not to move further, if you had faith in them then you must move forward and should access and approach your destination, Khan sahib you talked about Romani the American Presidential candidate, that he said Drones are the tools not the policy and you claimed that he is against the drone attacks but if you see from the other side, he also accepted the drone as a tool, and further more he also emphaised said that operation by foot, and boots on the ground in must, withdrawal from Afghanistan is not the final decision, I seek to know your view point on that, you said that we will launch operation in these areas, I want to ask that you want body bags or coffins of your own Army personals rather than theirs?.

With these drone attacks, your claim is this that the targets which US focus to achieve are less than 2 percent, rest of the other are civilians while US calls it collateral damage. It’s very much unfortunate  that in the hate of drone we ignore the killings of our citizens by Taliban or Jahilan, we never condemn them on their act, if they want to hit US, then why don’t they move across the border and attack on Nato forces or on US personals, in which capacity they target our Military installations our civilians or children, first of all stop it and bring peace and rest in your own country then we will be able to say the acts by the other country are not justified otherwise your move and Taliban’s statement by their spokesmen Ehsnullah Ehsan just one day before the Aman March (“ Taliban are not so price less that they give protection to this aman march, imran and nawaz are favorites to west so they are not in favor of us, with whom  we are attach we can’t tell anyone now”.) we must say the 2 sides of the same coin, I beg on the name of god plz stop Hippocratic behavior in Waziristan

now we move to the next step, you never propose  any  solution for  addressing  taliban or jahilan, why do you focus only to  criticize nawaz sharif and molana fazl-ur-rehman aman march by yourself,

it is very stunning that now you have  announced to approach united nations on 26th october,what would impact with   your  signature movement, these things are good and effective also but in these societies where  moral grounds are ultra high?, in this case, Taliban , American and NATO are playing on moral grounds as  both seem to an on false grounds. some scholars opine that  you are being  used by both, they support their argument  that  aman march couldn’t been accomplished unless  military  took responsibility of security|? Evidently, you could not recognize any group as your enemy or friend?, even the  government still could not  established its writ? This condemnable  attack at  Malala and  other girls create a message to our security forces whether  Talibans  are  really unbeatable or they are with American policies and its  ultimate  situation is drone? Regarding drone and its significance

or drone as  a false option,  I  had discussed it in my other article.  Now I only want to make a request to government and law enforcement agencies, kindly pay attention to every child every school-going girl so any other dismal incident may not happen again.  I wish that our High authorities will also pay attention towards the other two girls. Most significantly, the donors who want to donate only for Malala as symbol should establish a trust in the name of Malala.all donations should use in education, health and other welfare sectors. We should also strive to change the mindset of the locals.

Thirdly,we must  condemn this state within state mind-set of these non state actors,their  so-called self- interpretation of shariat. Finally, I implore Imran Khan mobilize your youth to eliminate this absurd mind-set and approach of Taliban.           

TTP Release News to Media About Mala

TTP successfully targeted Malala Yousafzai in Mingora, although she was young and a girl and TTP does not believe in attacking on women, but whom so ever leads  campaign against Islam & Shariah is Ordered to be killed by Shariah.
When its a matter of Shariah, and someone tries to bring fitnah with his/her activities, and it involves in leading a campaign against shariah and tries to involve whole community in such campaign, and that personality become a symbol of anti shariah campaign, not just its allowed to kill such person but its Obligatory in Islam.
If anyone Argues about her so young age , then the Story of Hazrat Khizar in Quran that relates that Hazrat Khizar while Traveling with Prophet Musa (AS)  killed a child, arguing about the reason of his killing he said that the parents of this child are Pious and in future he will cause bad name for them.
If anyone argues that she was female, then  we can see the incident of killing of wife by a blind Companion of Prophet Muhammad (S.A.W.W) because she use to say insultive words for prophet.And prophet praised this act.
Its a clear command of shariah that any female, that by any means play role in war against mujahideen, should be killed.Malala Yousafzai was playing a vital role in bucking up the emotions of Murtad army and Government of Pakistan, and was inviting muslims to hate mujahideen.

Tehrik taliban’s crime wasn’t that they banned education for girls, instead our crime is that we tried to bring Education system for both boys and girls under shariah.We are deadly against co-education and secular education syestem, and shriah orders us to be against it.
If anyone thinks thinks that Malala is targeted because of education, that’s absolutely wrong, and a propaganda of Media, Malala is targeted because of her pioneer role in preaching secularism and so called enlightened moderation. And whom so ever will commit so in future too will be targeted again by TTP.
After this incident Media pour out all of its smelly propaganda against Taliban mujahideen with their poisonous tounges, they are shouting that malala has suffered tyranny like there is no else in the country whom is facing same.Were our sister in lal masjid whom were bombed, gassed and burnt to death, were not humans?? and the sinless women and children of swat , bajour, mohmand, orakzai, & Wazeeristan whom suffered inhumane bombardments by Murtad army don’t qualify to bestow mercy upon them?
Will the blind media pay any attention to Hundreds of Respectful sisters whom are in secret detention centers of ISI and MI and suffering by their captives? Will you like to put an eye on more then three thousand young men whom are killed in secret detention centers and their bodies are found in different areas of swat, claimed to be killed in encounters and died by Cardiac Arrest?? Gain Conscious,  Otherwise…………
From: Ihsan-ullah-Ihsan
Central Spokesman TTP

October 8, 2012

Wazirastan Aman March By Imran Khan

Imran khan wants to move towards Waziristan with 1,00,000 persons including 200 members of  foreign media, diplomats, he called it Wazirastan Aman March, he want to show international community that how miserable condition of this belt due to war on terror and due to drone attacks, it’s a good decision by him and I appreciate it personally that he wants to show the world that this war on terror put un to this condition. We spend 90 Billion per Annam on this war but we got nothing except sick society, our social fabric is destroyed, the factor of tolerance in our society is like it never existed, our society is converted into a mob, but khan sahib is this the solution to come out of this war on terror?, or we are going to present our nation / our country as helpless people?, we want to organize this thing as display or stage show for others?, we are Africa, Congo, like states who can’t do anything for its problems, or Pakistan is a raped girl in your understanding and now ultimately so called NGO’s focuses to highlight it for only its repute, to make themselves in limelight and to get foreign funds.

The question arises that Khan sahib one hundred thousand person how they would reach to Waziristan, their food travel, expenses and their stay in DI khan, who will bear that by at their own or by PTI, and the Americans who participate in this Aman March, one of them is ex ambassador, did she involve in all this by her personal capacity, or U.S. government plays some sort of role in all this, because diplomats (ex or present) of U.S.A can’t play this kind of game without consent of their government. Or khan sahib this is a show of power to U.S.A to consider PTI for next turn. Because after Lahore mega event PTI only focus to gather the persons without distinction any that who is who? or some analysts said that PTI sell their Lahore show in front of Shuja pasha (ex ISI chief and in good books of America), and now the selection of Waziristan is deliberately so that show America that PTI have grip on these tribes and have grass root level influence in these areas and if America shake hand with Imran khan they can easily handle this belt without spending a massive dollar amount for operation. Because U.S.A. wants to move back from this area and it wouldn’t possible without stable situation of the areas in Pakistan side either it with military operation or with diplomatic ways. Along with that it’s a trump card for PTI like Taliban for Gen. Pervaiz Musharaf. Or maybe now Pakistan army wants to move back and settle this politically but they want a new puppet for that but they keep in mind that after every few years they created a small genie and after some time this small genie becomes a big giant, the example is Taliban either its local or in Afghanistan. For last 20 years someone only learn to earn his living from gun then you expect him suddenly change this way of life and have no alternate for them then this must happens which we face now a days.

This is a time of thinking for our rest of the parties that if it’s for good cause then they also gather their hands together with Imran Khan and move towards Waziristan and show the world that we don’t want drone attacks enough is enough, and move back from there with a solid solution. I want to ask a question with the rest of the parties that Khan sahib said that they can’t go in that area in which he will all this show, why he is more Pakistani then them if yes then the youth of PTI is right that rest of the other have no right to rule, because this is Pakistan and it should be rule by a patriot Pakistani either its Imran Khan, Nawaz Sherif, Asif Ali Zardari, Molana fazal-ul-rehman, Asfand yar wali khan, Altaf Hussain, Ch. Shujat Hussain. They should go to Waziristan if not then they should at least explain why only Imran Khan can go and they can’t. The prime responsibility is on the ruling party PPP that they must tell and take the whole nation in confidence to that what is the real matter of drone attacks and why they can’t stop it and why they never protest so effectively on it why the coalition partner ANP didn’t pay them a relief. My requests that solve your matters yourself and do not show your miseries to others. And save your country yourself.

Khurram Iqbal Awan

Next Page »

Blog at WordPress.com.